1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جان سلیکی زندہ ہیں : بلوچستان لبریشن فرنٹ

علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مہاجرین کی ایجنسی کے صوبائی سربراہ جان سلیکی زندہ ہیں۔

default

اقوام متحدہ کی ایجسی برائے مہاجرین جون سولکی کے اغوا کے باعث اپنی سرگرمیاں محدود کرنے پر مجبور ہوئی ہے

لبریشن فرنٹ کی جانب سے یہ بات اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کا مقامی میڈیا جان سلیکی کی ہلاکت کے حوالے سے خبریں دے رہا تھا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے پریس کلب میں موصول ہونے والی ایک نامعلوم فون کال میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جان سلیکی کو قتل کیا جا چکا ہے اور چند گھنٹوں میں ان کی لاش کو شہر کے کسی علاقے سے مل جائے گی۔

بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ کے ترجمان نے ان میڈیا رپورٹوں کے بعد ایک پاکستانی نیوز ایجیسی کے دفتر فون کر کے ان خبروں کی تردید کی اور بتایا کہ جان سلیکی زندہ ہیں۔

علیحدگی پسند تنظیم کے ترجمان نے لبریشن فرنٹ کی جانب سے ایسی کسی کال کی تردید کی۔ ترجمان کا کہنا تھا ’’ وہ (جان سلیکی ) بیمار ہیں اور دل اور گردے کے مسائل کا شکار ہیں۔ ہم انہیں ادویات فراہم کر رہے ہیں۔‘‘

اس سے قبل اغواکاروں کی جانب سے ریلیز کی گئی ایک ویڈیو ٹیپ میں سولکی نے بھی طبیعت کی خرابی کا اظہار کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کی ایجینسی کے صوبائی سربراہ جان سلیکی کو کوئٹہ سے اغواء کر لیا گیا تھا اور ان کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ بلوچستان کی علیحدگی پسند غیر معروف تنظیم BLUF نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے جان سلیکی کی رہائی کے بدلے کچھ شرائط کی تکمیل کا مطالبہ کیا تھا۔

عسکریت پسند گروپ کا مطالبہ تھا کہ 141 خواتین جو اس وقت حکومتی حراست میں ہیں انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ شرائط میں 6000 لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات کی فراہمی اور بلوچستان کی علیحدگی کے مسئلے کا جنیوا کنونشن کے مطابق حل کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔