1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جان ریسڈل کی ہلاکت پر عالمی مذمت

فلپائن میں مسلم شدت پسندوں کی طرف سے ایک کینیڈین شہری کا سر قلم کرنے کے عمل کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔ کینیڈین وزیراعظم نے اس پرتشدد واقعے پر سخت تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:27

فلپائن میں اسلام پسندوں نے کینیڈین شہری کا سر قلم کر دیا

فلپائن میں فعال ابو سیاف نامی جنگجو گروہ نے دو کینیڈین اور ناروے کے ایک شہری کے ساتھ فلپائن کی ایک شہری کو بھی اغوا کیا تھا۔ جان ریسڈل کی ہلاکت کے بعد ان بیس دیگر غیرملکی یرغمالیوں کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات شدید ہو گئے ہیں، جو اس وقت اسی جنگجو گروہ کی قید میں ہیں۔



اس اسلام پسند جنگجو گروہ نے کہا تھا کہ انہیں تاوان کی رقوم ادا نہ کی گئیں تو وہ پچیس اپریل کے دن جان ریسڈل کو ہلاک کر دیں گے۔ مقررہ وقت پر تاوان کا مطالبہ پورا نہ ہونے کے نتیجے میں ان جنگجوؤں نے کینیڈین شہری جان ریسڈل کو ہلاک کر دیا۔

کینیڈا کے وزیراعظم نے اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جسٹن ٹروڈو نے اس بہیمانہ واردات پر اپنے غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قتل کی ذمہ داری ان دہشت گردوں پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے جان رِیسڈل کو اغوا کیا تھا۔ دیگر مغربی ممالک نے بھی ریسڈل کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔

ٹروڈو نے کہا ہے کہ فلپائن کے جنوبی جنگلاتی علاقے جولو میں ریسڈل کا کٹا ہوا سر مل گیا ہے۔ ریسڈل کی عمر تریسٹھ برس تھی۔ ایک حالیہ ویڈیو میں ریسڈل نے کہا تھا کہ اگر تاوان کی رقم ادا نہ کی گئی تو یہ جنگجو انہیں پچیس اپریل کو ہلاک کر دیں گے۔ کینیڈا میں تاوان کی رقوم ادا کرنے کے خلاف پالیسی واضح ہے۔

سی سی ٹی وی کیمرے سے حاصل شدہ اس فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ اغواکاروں نے گزشتہ برس ستمبر میں اغوا کی یہ واردات سر انجام دی تھی۔ تب جان ریسڈل، ایک اور کینیڈین شہری اور ناورے کے ایک باشندے کو ان جنگجوؤں نے یرغمال بنا لیا تھا۔

ان جنگجوؤں نے ریسڈل کو تو ہلاک کر دیا ہے لیکن دیگر مغویوں کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کس حالت میں ہیں۔ فلپائن میں گزشتہ پچیس برسوں سے ابو سیاف نامی شدت پسند گروہ اس کتھولک اکثریتی ملک میں لوگوں کو خوف زدہ کر رہا ہے۔

Philippinen Abu Sayyaf Kämpfer Screenshot

ابو سیاف نامی یہ دہشت گرد گروہ ماضی میں بھی غیر ملکیوں کو تاوان کی غرض سے اغوا کرتا رہا ہے



اسی اسلام پسند جنگجو گروہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ سن 2004 میں ایک کشتی پر کیے گئے بم حملے میں ملوث تھے، جس میں سو سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

ابو سیاف نامی یہ دہشت گرد گروہ ماضی میں بھی غیر ملکیوں کو تاوان کی غرض سے اغوا کرتا رہا ہے۔ سات ماہ قبل اغوا کیے گئے ان تین غیرملکیوں کی رہائی کے لیے جنگجوؤں نے فی کس اکیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

Audios and videos on the topic