1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’جانے وہ کونسا دیس، جہاں تم چلے گئے‘

دنیا بھر میں جدید غزل گائیکی کی توانا اور مضبوط آواز جگجیت سنگھ آج پیر کی صبح اپنے کروڑوں چاہنے والوں کو غمگین چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ وہ گزشتہ تین ہفتوں سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔

default

 انہیں دماغ کی رگ پھٹنے کے بعد کومے کی حالت میں ممبئی کے رام لیلا ہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا تھا۔غزل گائیکی کے بادشاہ کہلانے والے جگجیت سنگھ اپنے کلاس کی اسلوب اور گرجدار لہجے کی وجہ سے غزل کی نئی جہتوں کے امین سمجھے جاتے تھے۔ غزل گائیکی شاعری کے برتاؤ کی ایک ایسی قسم ہے، جس کا آغاز مشرق وسطیٰ میں ہوا اور بارہویں صدی میں یہ ہندوستان پہنچی، جہاں اسے نئے ڈھب سے اپنایا گیا۔

جگجیت سنگھ کو جدید غزل گائیکی کا ایک تابندہ ستارا اس لیے بھی گردانا جاتا ہے، کیوں کہ وہ پہلے بھارتی گلوکار تھے، جنہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں غزل گائیکی میں مشرقی آلات موسیقی کے ساتھ ساتھ مغربی سازوں کے استعمال کا آغاز بھی کیا۔

برصغیر میں غزل گائیکی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی اور پاکستانی فلموں میں بھی غزلوں کو شامل کیا گیا۔ جگجیت سنگھ نے بھی بالی وڈ کے لیے متعدد غزلیں گائیں، جنہیں بہت شہرت ملی۔ جگجیت سنگھ کی پہچان بنانے میں سن 1981 میں فلم پریم گیت اور اس کے بعد فلم ارتھ میں ان کے گیتوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

Der indische Sänger Jagjit Singh

جگجیت سنگھ کو غزل گائیکی کے حوالے سے ایک انتہائی معتبر نام سمجھا جاتا ہے

سن 1941ء میں پنجاب میں پیدا ہونے والے جگجیت سنگھ بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی دماغ کی رگ پھٹنے کی وجہ بھی یہی بیماری بنی۔ سن 1998 میں انہیں دل کا دورہ بھی پڑ ا تھا اور اس کے بعد انہوں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی تھی۔

جس شام جگجیت سنگھ کو ہسپتال منتقل کیا گیا اس روز وہ اور غزل گائیکی کے پاکستانی لیجنڈ غلام علی ایک ساتھ ایک محفل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے تھے۔ یہ موسیقی کی تقریب وسطی ممبئی کے ضلع موٹنگا کے مشہور شان مکھنڈ ہال میں رکھی گئی تھی، جسے جگجیت سنگھ کی علالت کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔

مشہور گلوکار جگجیت سنگھ غزل گائیکی میں اپنی پرسوز آواز کا استعمال بہت عمدگی سے کرتے رہے ہیں۔ وہ غزل کو سادہ انداز میں متانت کے ساتھ گانے کا چلن رکھتے تھے لیکن پچھلی ایک دہائی سے وہ محافل موسیقی میں راگداری اور لےکاری کا بھی استعمال غیر معمولی انداز میں کرنے لگے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ غزل کے لیے موزوں راگ کے شدھ سروں کے اتار چڑھاؤ یا ’’برتاوے’’کو بھی اب اپنی گائیکی کا حصہ بنانے لگے تھے۔

جگجیت سنگھ کو سن 2003 میں اعلیٰ بھارتی تمغے پدم بھوشن سے نوازا  گیا تھا۔ وہ گلوکاری کے علاوہ میوزک کمپوزر اور ڈائریکٹر بھی تھے۔ وہ اردو اور پنجابی کے علاوہ کچھ اور بھارتی زبانوں میں بھی گائیکی میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی واحد اولاد ان کے بیٹے ویوک سنگھ تھے، جو 90 کی دہائی کے اوائل میں ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر / عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM