1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں‘

معروف اردو شاعر جون ایلیا کی 13ویں برسی کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھرمیں یادگاری محافل کا انعقاد ہو رہا ہے۔ اردو شاعری کو نئے اسلوب اور جہتوں سے متعارف کرانے والے جون ایلیا کی بے پناہ مقبولیت کا آخر راز کیا ہے؟

جون ایلیا کی زندگی میں ان کا صرف ایک مجموعہء کلام شاید سن 1991ء میں شائع ہوا۔ وفات کے وقت اردو شاعری سے جڑے افراد تو جون ایلیا اور ان کے مقام سے خوب واقف تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مداحوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور یہ تلخ لہجے اور گہرے افکار کا حامل شاعر اور فلسفی رفتہ رفتہ اپنے اشعار میں مشکل جذبوں کی آسانی سے ترجمانی کی وجہ سے زباں زد خاص و عام ہو گیا۔

جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو غیرمنقسم ہندوستان کے علاقے امروہہ میں ایک نہایت تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شفیق ایلیا بھی شاعر اور فلسفی تھے اور اسی گھرانے نے رئیس امروہوی جیسا شاعر اور مفکر بھی پیدا کیا۔ اردو، عربی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی زبانوں کے ماہر جون ایلیا تقسیم ہندوستان کے بعد سن 1957ء میں پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی میں آن بسے۔

جون ایلیا کے معاصرین میں احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، منیر نیازی، عبیداللہ علیم اور پروین شاکر جیسے شعراء موجود تھے، تاہم روایات سے بغاوت اور عام ڈگر سے ہٹ کر چلنے نے جون کو اردو شاعری میں ایک منفرد مقام دلایا۔

اب انہی اشعار کو دیکھ لیجیے:

سنا دیں عصمتِ مریم کا قصہ

پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم

مسکرائے ہم اس سے ملتے وقت

رو نہ پڑتے اگر خوشی ہوتی

کیا کہا عشق جاودانی ہے؟

آخری بار مل رہی ہو کیا!

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تُو

کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے

یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی

اے خدا ساز بندگانِ خدا

خود سبب بن گیا مسبب کیا؟

جون کی مقبولیت اس انداز سے بھی ان کے معاصرین سے جدا ہے کہ دیگر شعراء کو ان کی زندگی ہی میں مقبولیت ملی، تاہم جون ایلیاء اپنی وفات کے بعد رفتہ رفتہ مقبول تر ہوتے چلے گئے۔ مقبولیت میں اس اضافے کی ایک کردار پاکستانی میں برقیاتی نشریاتی اداروں کی نمو و تنوع اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس نے بھی ادا کیا، جہاں عام افراد بھی اپنے جذبوں کو جون کے اشعار میں ڈھونڈتے دکھائی دیتے ہیں۔ جون کے ایسے اشعار بھی مقبول ہو چکے ہیں جن میں انہوں نے ایک نئے دور کے رجحانات کی بات کی تھی:

تُو ہے پہلو میں پھر تری خوش بو

ہو کے باسی کہاں سے آتی ہے

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے

کہاں کا دین، کیسا دین، کیا دین

یہ کیا گڑبڑ مچائی جاری ہے

رائگاں وصل میں بھی وقت ہوا

پر ہوا خوب رائگاں جاناں

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

جون اسلامیوں سے بحث نہ کر

تند ہیں یہ ثمود و عاد بہت

جون کی وفات کے بعد شائع ہونے والے ان کے شعری مجموعوں میں یعنی، گمان، گویا، لیکن شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی نثری تحریروں اور مضامین پر مبنی کتاب فرنود بھی شائع ہو چکی ہے۔ ان کی الواح پر مشتمل ایک طویل نظم ’راموز‘ (نئی آگ کا عہد نامہ) کے نام سے عنقریب شایع ہونے والی ہے۔