1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی‘

پرویز مشرف بیرون ملک علاج کرانے کے غرض سے بیرون ملک روانہ ہو گئے ہیں۔ کئی مقدمات کا سامنا کرنے والے پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی پرسوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

سابق آرمی چیف اور پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو پاکستان میں غداری اور بینظیر بھٹو کے قتل سمیت کئی دیگر مقدمات کا سامنا ہے۔ مشرف آج جب پاکستان سے دبئی کے لیے روانہ ہوئے تو اس بارے میں کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایمان ظاہر نے لکھا، ’’کیا ہم یہ ڈرامہ کرنا چھوڑ دیں کہ پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ نواز حکومت نے کیا ہے؟‘‘

نیوز شو کی اینکر فریحہ ادریس نے لکھا، ’’پرویز مشرف کا زاویے سے غائب ہو جانا اس حکومت پر توجہ بڑھا دے گا۔‘‘

صحافی وجاہت خان نے ٹوئٹ کی، ’’مشرف کو جانا ہی تھا، سول فوجی تعلقات کا بہتر ہونا مشرف کے جانے پر ہی منحصر تھا، یہی پاکستان ہے۔‘‘

اے آر وائے پر ٹی وی شو کرنے والے اقرار الحسن نے لکھا، ’’جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی، تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں۔‘‘

نیوز شو کے اینکر طلعت حسین نے لکھا، ’’مشرف اور زرداری کاعلاج کے غرض سے ملک سے جانا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں صحت کا نظام کس خستہ حالی کا شکار ہے۔‘‘

جہاں پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت کئی افراد نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے اور پھر انہیں علاج کے غرض سے ملک چھوڑ کر جانے کی اجازت دیے جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے تو وہیں سوشل میڈیا پر کئی افراد نے ان کے حق میں بھی آواز اٹھائی ہے۔

اس بارے میں فیصل رضا عابدی نے ٹوئٹ کی، ’’لال مسجد کاروائی، افتخار چوہدری کا معاملہ اور 3 نومبر کا اقدام، سب فیصلے آئینی تھے۔ کوئی وجہ ہی نہیں تھی کہ ان کے خلاف مقدمات چلائے جاتے۔‘‘

ٹوئٹر کے ایک صارف سید محمد نقوی نے لکھا، ’’سر واپس مت آئیے ہم آپ جیسے لیڈر کے مستحق ہی نہیں۔‘‘

DW.COM