1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جانیں سستی، کرایہ مہنگا

پشاور، چارسدہ ، مردان ، نوشہرہ اورملاکنڈ ڈویژن کے محفوظ مقامات میں واقع گھر وں کا کرایہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔

default

رہائشی مکان نیست و نابود ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں آنیوالے سیلاب میں جہاں ہزاروں خاندان پھنس چکے ہیں وہاں ایک بڑی تعداد جان بچاکر محفوظ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں بے سروسامانی کی حالت میں یہ لوگ شروع میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں ٹہرے تاہم رشتہ داروں پر بوجھ نہ بننے کی وجہ سے یہ کرائے کے گھر ڈھونڈنے نکلے ۔ لیکن پشاور، چارسدہ ، مردان ، نوشہرہ اورملاکنڈ ڈویژن کے محفوظ مقامات میں واقع گھر وں کا کرایہ آسمان سے باتیں کرنے لگا ہے چارسدہ اورنوشہرہ کے زیادہ تر متاثرین مردان اورپشاور پہنچے ہیں تاہم انہیں دو کمروں کا گھر دس ہزار روپے ماہانہ کرایہ پربھی نہیں ملتا جبکہ مالک مکان سیکورٹی کے نام پر پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ بھی کرتاہے جو بری طرح متاثر ہونیوالوں کیلئے ممکن نہیں ہے پشاورمیں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ خالد خان کاکہناہے کہ ” پشاور میں پہلے سے لاکھوں افغان مہاجرین اورقبائلی علاقوں سے آنیوالے لوگ کرایہ کے گھروں میں پڑے ہیں۔

Pakistan Überschwemmung

گاؤں کے گاؤں زیر آب

ایسے میں یہاں گھروں کا کرایہ ضرور بڑھے گا انکے ساتھ بیٹھے گھر کی تلاش میںﺅد دھکا کھانے والے ایک شخص کا تعلق چارسدہ سے ہے۔ وہ کہتا ہے ’میں یہاں رشتہ دار کے گھر ٹہرا ہوں تاہم چاہتاہوں کہ رمضان میں ان کیلئے بوجھ نہ بنوں اورالگ مکان لے لوں ‘ انکا کہناہے کہ کرایہ تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے دیگا لیکن سیکورٹی کے پیسوں کاانتظام کرنا انکے لیے مشکل ہوگا ایسے میں مجبوراً کسی سکول یا سرکاری عمارت میں پناہ لونگا “پشاور میں رہائش اختیار کرنیوالے باہر کے لوگوں میں سب سے زیادہ افغان مہاجرین ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہیں اسی طرح 2001ءسے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کی وجہ سے بھی ہزاروں خاندان پشاور، مردان ، نوشہرہ ، ڈیرہ اسماعیل خان اوردیگر شہروں میں پہنچ گئے ہیں جسکی وجہ سے ان شہروں میں گھروں کا کرایہ بڑھ گیا ہے پاکستان اور باالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا میں گھر کرائے پر دینے کیلئے موجود قوانین پرعملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

Überschwemmung in Pakistan

بقاء کی تلاش میں سرگرداں لاکھوں افراد

حال ہی میں جب کئی عسکریت پسندوں کو جدید بستیوں سے گرفتار کروایا تو حکومت نے مالکان کو پابند کیا کہ وہ کسی کوبھی گھر کرائے پر دیتے وقت متعلقہ پولیس اسٹیشن میں اسکے کوائف جمع کرائیں گے تاہم اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوتا جبکہ کرایوں کے تعین کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی قائدہ قانون نہیں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں گھروں کی تعداد 3لاکھ 35 ہزار،مردان میں دو لاکھ33ہزار،چارسدہ میں ایک لاکھ69 ہزار،ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک لاکھ56ہزار اورنوشہرہ میں ڈیڑہ لاکھ ہے۔

رپورٹ : فریداللہ خان

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM

ویب لنکس