1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاننا چاہتے ہیں ملزمان کے پیچھے کون ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ آف پاکستا ن میں کراچی کی صورتحال پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ نے حساس اداروں کی رپورٹوں کو ناکافی قراردیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی ہے۔

default

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ لوگوں کی جان ومال کا تحفظ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ملزمان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔

 آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت کو بتایا کہ چوبیس جولائی سے چوبیس اگست تک306 افراد قتل ہوئے اور پچیس لاشیں ملیں، جن میں سترہ بوری بند لاشیں شامل ہیں۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس نے 332 مقدمات درج کیے ہیں۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اغواکاروں کا پتہ چلانے کے لیے مغویوں کے بیان قلمبند کیے ہیں، تو آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ رہا کرائے گئے مغوی خوفزدہ ہیں اور بیان دینے کے قابل نہیں ہیں۔ قبل ازیں جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، عوامی تحریک، اورسندھ بچاؤ کمیٹی کے رہنما اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائرکرانے کے لیے رجسٹری آفس پہنچے۔

Unruhen in Karachi Pakistan

چوبیس جولائی سے چوبیس اگست تک306 افراد قتل ہوئے اور پچیس لاشیں ملیں

 وفاق کی وکالت بابر اعوان اورسندھ حکومت کی وکا لت عبدالحفیظ پیرزادہ اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک کر رہے ہیں۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ماہرقانون افتخارگیلانی نے کہا کہ آئی جی سندھ کے بیان سے یہ تاثر نمایاں ہورہا ہے کہ کراچی میں لسانی بنیادوں پر فسادات ہورہے ہیں۔

سرکاری وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ دنیا کے مختلف شہروں میں بدامنی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ عدالت جو حل تجویز کرے گی، اس سے کراچی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف سابق وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹرذوالفقارمرزا اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر وہ ضرور عدالت میں پیش ہوں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا سپریم کورٹ میں بیان ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنی پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم پر ملک توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے متحدہ قومی مومنٹ کو ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث قراردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین امریکہ کے ساتھ مل کر ملک توڑنے کی سازش کررہے ہیں۔ حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ میں اگر کوئی سیاسی جماعت کراچی کی بدامنی میں ملوث پائی گئی تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں کراچی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا پانچ رکنی بینچ جسٹس انورظہیرجمالی، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیرہانی اورجسٹس غلام ربانی پر مشتمل ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید / کراچی

ادارت: امتیاز احمد

 

DW.COM