1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جاسوسی سے متعلق نئے انکشافات: امريکی انٹیلیجنس کا دفاعی موقف

امريکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے وکی ليکس کے تازہ انکشافات کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس ويب سائٹ پر شائع کردہ مواد سے امريکی شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

سی آئی اے کے مطابق وکی لیکس پر جاری کردہ مواد کے باعث واشنگٹن کے مخالفين کو بھی مدد مل رہی ہے۔ فرانسيسی خبر رساں ادارے اے ايف پی کی امريکی دارالحکومت واشنگٹن سے جمعرات نو مارچ کے روز موصولہ رپورٹوں کے مطابق سی آئی اے کی خاتون ترجمان ہيتھر فرٹز ہورنياک نے اپنے ايک بيان ميں کہا کہ امريکی عوام کے ليے وکی ليکس کے وہ تمام انکشافات تشويش کا باعث ہونے چاہييں، جن کا مقصد دہشت گردوں سے عام شہريوں کے تحفظ کے سلسلے میں ملکی انٹيليجنس کی اہلیت کو نقصان پہنچانا ہے۔

فرٹز ہورنیاک نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنے بيان ميں کہا، ’’ايسے انکشافات نہ صرف امريکی دستوں اور آپريشنز کو ٹھيس پہنچاتے ہيں بلکہ ان سے امريکا کے مخالفين تک ايسی معلومات بھی پہنچتی ہيں، جن کی مدد سے وہ ہميں نقصان پہنچا سکتے ہيں۔‘‘ فرٹز ہورنياک نے سی آئی اے کے سائبر آپريشنز کا دفاع بھی کيا۔ ان کے بقول بيرونی قوتوں کے خلاف ملکی دفاع کو يقينی بنانے کے ليے جديد ترين ٹيکنالوجی کو بروئے کار لانا اس خفیہ ادارے کی ذمہ داری ہے۔

حساس اداروں کے خفيہ دستاويزات اور معلومات عام کرنے والی ويب سائٹ وکی ليکس نے منگل کے روز سی آئی اے کی قريب نو ہزار دستاويزات جاری کی تھیں۔ ان دستاويزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سينٹرل انٹيليجنس ايجنسی (سی آئی اے) کے ہيکرز صارفين کے گھروں ميں موجود ٹيلی وژن جیسے آلات تک کو جاسوسی کے ليے استعمال کر سکتے ہيں۔ اسی طرح عام لوگوں کے اسمارٹ فونز وغيرہ پر مختلف ايپليکيشنز تک رسائی حتیٰ کہ کسی کی گاڑی کو کنٹرول کرنا بھی ممکن ہو چکا ہے۔

کئی ماہرين کا کہنا ہے کہ يہ دستاويزات جعلی نہيں۔ گزشتہ روز امريکی ذرائع ابلاغ پر يہ بتايا گيا کہ امریکا کے مرکزی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے ان دستاويزات کے اجراء کے معاملے کی تحقيقات شروع کی جا رہی ہيں۔ تاحال البتہ يہ واضح نہيں کہ وکی ليکس نے کن ذرائع سے يہ دستاويزات حاصل کيں۔

امريکا ميں ڈيجيٹل حقوق کے ليے سرگرم ادارے سينٹر فار ڈيموکريسی اينڈ ٹيکنالوجی سے منسلک ايک ماہر جوزف ہال کے مطابق يہ دستاويزات گزشتہ برس کيے گئے واشنگٹن حکومت کے اس وعدے پر ایک  سواليہ نشان لگا ديتی ہيں، جس کے مطابق حکومت نے سافٹ ويئر ميں ايسے نازک معاملات يا کمزوريوں کے حوالے سے ٹيکنالوجی کمپنيوں کو معلومات فراہم کرنا تھيں۔ اس سلسلے میں يہ بات واضح کی گئی تھی کہ کسی بھی سکيورٹی نقص کی اطلاع متعلقہ کمپنيوں کو فراہم کی جائے گی تاکہ اس کا حل تلاش کيا جا سکے۔

امريکا میں سول لبرٹيز يونين نے بھی اس پيش رفت کے حوالے سے ٹوئٹر پر اپنا ايک پيغام جاری کيا ہے، جس ميں کہا گیا ہے کہ جب حکومت کو کسی سافٹ ويئر ميں خامياں نظر آئیں، تو اسے ان کے حل تلاش کرنے ميں مدد دینا چاہیے، نہ کہ ان خامیوں کی نشاندہی نہ کی جائے اور عام صارفين متاثر ہوتے رہیں۔

DW.COM