1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جارج ڈبلیو بش کے نام ایرانی صدر کا خط

ایران میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کسی ایرانی سربراہ کی طرف سے اپنے امریکی ہم منصب کے نام لکھا جانے والا یہ پہلا خط ہو گا۔

default

ایران کے صدر احمدی نژاد نے امریکی صدر بش کے نام ایک خط روانہ کیا ہے جس میں ایرانی حکومت کے ترجمان غلام حسین الہام کے مطابق عالمی مسائل کا تجزیہ کیا گیا ہے، موجودہ مشکلات کے علل و اسباب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ان مشکلات کے حل کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے یہ خط تہران میں سوئس سفارتخانے کے حوالے کیا گیا ہے کہ جو 1980 میں دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سے ایران میں امریکہ کے مفادات کی نگرانی کر رہا ہے۔ ایران میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعدکسی ایرانی سربراہ کی طرف سے اپنے امریکی ہم منصب کے نام لکھا جانے والایہ پہلا خط ہو گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حمید رضا آصفی کا کہنا ہے کہ احمدی نژاد کے خط کے مندرجات کو اس وقت تک سامنے نہیں لایا جائے گا جب تک یہ خط جارج ڈبلیو بش تک نہیں پہنچ جاتا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافی مسائل کو بھی موضوع گفتگو بنایا ہے یا صرف عمومی مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔

لیکن ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ترکی میں اپنے تازہ ترین انٹرویو میں کہا ہے کہ اس خط میں نہایت اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ خط امریکہ اور ایران کے سفارتی تعلقات کو ایک نئے موڑ کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا مسئلہ بھی ایک عرصے سے دنیا کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں موضو ع گفتگو بنا ہوا ہے اور خاص کر ایران میں اسے ایک نازک اور حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی لئے بعض ماہرین علی لاریجانی کے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ممکنہ آغاز کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

دوسری طرف ایرانی حکومت کے ترجمان غلام حسین الہام نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاﺅ کے معاہدے NPT سے الگ ہوجانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا صدر احمدی نژاد کہہ چکے ہیں کہ عالمی اداروں کے ساتھ روابط اور بین الاقوامی تعلقات کے سلسلے میں نظر ثانی کا حق ایران کے پاس محفوظ ہے۔

اگرچہ یہ خبردنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہوئی ہے اور اس خط کی تفصیلات کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں لیکن بہت سے تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ایران نے اپنے جوہری تنازعے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو ختم کرنے کے لئے ایسی کوئی نئی تجویز دی ہو گی جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ بلکہ اس کے برخلاف ایرانی حکام کے بیانات سے زیادہ تاثر یہی ملتا ہے کہ اس خط میں ایران نے زیادہ بھرپور طریقے سے اور ایک نئے انداز میں اپنے گزشتہ موقف کو ہی دہرایا ہو گا۔