1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جارج مچل کا دورہ مشرق وسطیٰ

اسرائیل اور حماس کے درمیان فائربندی کے باوجود خطے میں امن کی صورت حال کشیدہ ہے۔ عالمی برادری فریقین کے درمیان طویل المدت اور پائیدار فائربندی پر زور دے رہی ہے۔

default

جارج مچل نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز سے ملاقات کی

انہی کوششوں کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کے لئے امریکہ کے صدارتی مندوب جارج مچل خطے میں موجود ہیں جہاں وہ اسرائیلی و فلسطینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

امریکی مندوب جارج مچل نے جمعرات کو رملہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ خطے میں پائیدار اور طویل المدت فائربندی پر مذاکرات کئے۔ انہوں نے بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اور وزیرخارجہ زیپی لیونی سے ملاقات میں بھی مسلسل امن عمل پر زور دیا تھا۔

اسرائیلی ا‌خبارات کے مطابق جارج مچل سے ملاقات میں ایہود اولمرٹ نے محمود عباس کو مشرقی یروشلم کے کچھ حصوں کو خالی کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے سے 60 ہزار یہودی آبادکاروں کے انخلا کی پیش کش کی ہے۔

George Mitchell und Mahmoud Abbas Treffen in Ramallah

جارج مچل فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملے

اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں جارج مچل کا کہنا تھا کہ اوبامہ کو عہدہ صدارت سنبھالے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے مندوب کو مشرق وسطیٰ روانہ کردیا۔ اس سے خطے میں امن کے لئے امریکی حکومت کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ ایہود اولمرٹ سے اپنی ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا: "وزیراعظم سے اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی ہے، جن میں طویل المدت فائربندی، اسمگلنگ اور جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ اور اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔"

اسرائیلی حکام کے مطابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے جارج مچل سے ملاقات میں گزرگاہیں کھولنے کو 2006 میں پکڑے گئے ایک اسرائیلی فوجی کی رہائی سے مشروط کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال غزہ کے لئے امدادی سامان کے علاوہ کسی مقصد کے لئے کوئی گزرگاہ نہیں کھولی جائے گی۔

جارج مچل اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے پہلے مرحلے میں منگل کو مصر پہنچے جہاں قاہرہ میں انہوں نے صدر حسنی مبارک سے ملاقات کی۔ مصر، اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن کے لئے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہے۔

جارج مچل ایسے وقت اسرائیل پہنچے جب غزہ سے یہودی علاقوں پر راکٹ فائر کئے گئے۔ جمعرات کو خان یونس کے علاقے میں اسرائیل کے فضائی حملے میں 11 بچوں سمیت 18 افراد زخمی ہوئے۔

غزہ پر 27 دسمبر کو شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار 300 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں کم از کم 700 عام شہری تھے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس دوران اس کے دس فوجی اور تین شہری ہلاک ہوئے۔ غزہ پر یہ 22 روز تک جاری رہے جس کے بعد فائر بندی عمل میں آئی۔