1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جارجیا کے دارلحکومت پر روسی فضائی حملے

روسی فوج نےطبلسی پر فضائی حملے شروع کر دئے ہیں ۔ جورجیا کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ کئی دوسری اہم تنصیبات پر بھی فضائی حملے کئے گئے ۔ جورجیا کے صدر نے ضرورت پڑنے پر ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

default

اطلاعات کے مطابق اب تک ان جھڑپوں میں کم ازکم ایک ہزار چار سو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنوبی اُوسیتیا میں روسی فوج نے اپنی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہےاور ہفتےکی صبح جارجیا کے دارلحکومت طبلسی میں بھی فضائی بمباری سے شدید نقصان پہنچایا گیا۔ جارجیا حکام نے کہا ہے کہ روسی فضائیہ نے بندرگاہی شہر پوتی پر بمباری کی اور دارلحکومت کے قریب واقعہ فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے فورا بعد طبلسی میں سرکاری دفاتر اور پارلیمان کی عمارت کو خالی کروا لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جارجیائی اور روسی فوجیوں کےمابین شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

جارجیا نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے جنوبی اوسیتیا میں داخل ہو کر سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو دوسری طرف جنوبی اوسیتیا نے جارجیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ اوسیتیا میں نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ہوا ہے۔

گذشتہ سولہ سال سے روس کی پشت پناہی سے جارجیا سے الگ ہو کر ایک آزاد ریاست کی شکل اختیار کرنے کے لئے کوشاں خِطے جنوبی اوسیتیا کے تنازعے نے جارجیا اور روس کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔جمعرات کے روز جارجیا کے فوجی دَستوں نے اِس علاقے کو پھر سے اپنے کنٹرول میں لانے کے لئے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا اور فوراً بعد اعلان کیا کہ جنوبی اوسیتیا کے دارالحکومت سِن والی پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

Georgien Raketenwerfer in Stellung Georgian rocket launchers, Ergneti, Georgia village in South Ossetia, video still

جارجیا کا کہنا ہے کہ وہ روسی جارحیت کا جواب دے رہا ہے

علٰیحدگی پسندوں نے اِس دعوےکو رَد کیا، تاہم یہ تسلیم کیا کہ شہر پر جنگی طیاروں، بھاری توپ خانے اور راکٹوں کی مدد سے حملہ کیا گیا ،کئی مکانات آگ اور دھوئیں کی لپیٹ میں ہیں اور روسی امن دَستے میں شامل کم از کمبارہ فوجی مارے گئے ہیں۔ جنوبی اوسیتیا کے حکام کے مطابق تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جنوبی اوسیتیا کے علٰیحدگی پسندوں کی جانب سے مدد طلب کئے جانے کے چند ہی گھنٹے بعد نہ صرف روسی ٹینک جنوبی اوسیتیا میں داخل ہو گئے بلکہ روسی جنگی طیاروں نے جارجیا کے ٹھکانوں پر حملے بھی شروع کر دئے۔ اور یوں یہ تنازعہ آہستہ آہستہ جنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

واضح رہے کہ جنوبی اوسیتیا نے 1992ء میں جارجیا سے علٰیحدگی کا اعلان کر دیا تھا اور تب سے عملاً آزاد اور خود مختار ہے۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر اِسے جارجیا کا ہی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ دو بار، 1992ء میں اور 2006ء میں ہونے والے ریفرینڈمز میں جنوبی اوسیتیا کے شہریوں نے جارجیا سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دئے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اِن ریفرینڈمز کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

DW.COM