1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جارجیا کی ایئرلائن کو روس کے لئے پروازوں کی اجازت

روس اور جارجیا کے درمیان تعلقات بحالی کے راستے پر ہیں۔ تازہ پیش رفت میں ماسکو حکومت نے جارجیا کے ساتھ جنگ کے بعد تبلیسی کی ایک ایئرلائن کو پہلی مرتبہ اپنی سرزمیں پر اترنے کی اجازت دے دی ہے۔

default

روسی صدر دیمتری میدویدیف نے گزشتہ ماہ جارجیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ میدویدیف نے کہا تھا کہ انہیں کمرشل پروازوں کی بحالی اور جارجیا کے شہریوں کے لئے بغیر کسی ویزے کے روس کا سفر کرنے کی سہولت پر عمل درآمد میں کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ صدر میخائل ساکاشویلی کے ہوتے ہوئے تبلیسی حکومت سے کوئی سرکاری رابطہ نہیں رکھا جائے گا۔

روسی وزارت مواصلات نے پیر کو اعلان کیا کہ جارجیئن ایئرویز کو 29 اور 30 دسمبر کے لئے چارٹر پروازوں کی اجازت دی گئی ہے۔ اس وزارت کے ترجمان تیمورحکماتوف نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے بعد یہ پہلی مسافر پروازیں ہوں گی۔

دوسری جانب جارجیئن ایئرویز نے فی الحال یہ کہہ کر پروازیں بحال کرنے کا ارادہ منسوخ کر دیا ہے

Medvedev TV

روسی صدر دیمتری میدویدیف

کہ اسے یہ اجازت دیر سے ملی ہے۔ اس ایئرلائن کے ایک ترجمان نے کہا: ’’یہ اجازت تاخیر سے دی گئی ہے۔ ہم دو دنوں میں نہ تو انتظامات مکمل کر سکتے ہیں اور نہ ہی ٹکٹیں فروخت کر سکتے ہیں۔‘‘

ان پروازوں کی منظوری ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ کے شہروں کے لئے دی گئی تھی، جو اب چھ سے 25 جنوری کے درمیان شروع کی جائیں گی۔ روسی وزارت مواصلات نے متعلقہ ایئرلائن سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پانچ سے دس جنوری کے درمیان پروازوں کے لئے انتظامی ضروریات سے مطلع کرے، جو کہ وہاں چھٹیوں کا سیزن ہے۔

ماسکو میں وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس تاخیر کے ذمہ دار جارجیا کے حکام ہیں۔ انہوں نے اپنی جانب سے یہ معاملہ نمٹانے میں پانچ دن لگا دئے۔ تبلیسی میں حکام کی جانب سے اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ برس لڑی جانے والی ایک مختصر جنگ کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بہت کشیدہ ہو گئے تھے۔ یہ جنگ جارجیا کی جانب سے اپنے علیٰحدہ ہو جانے والے خطے جنوبی اوسیتیا کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ ماسکو حکومت نے گزشتہ ہفتے جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم سرحدی چوکی کھولنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM