1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’جائیں تو کہاں جائیں‘، جنگ میں گھِری دو یوکرائنی بہنیں

تباہی مچاتے شیلوں نے علاقے کی تقریباﹰ تمام ہی عمارتوں کو ڈھیر کر دیا جبکہ اس علاقے میں بجلی کو غائب ہوئے بھی ایک برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ مگر لوگ اب بھی مشرقی یوکرائن کے خانہ جنگی کے مرکز میں رہنے پر مجبور ہیں۔

مشرقی یوکرائن میں روس نواز باغیوں کی طرف سے اپنا درالحکومت قرار دیے جانے والے شہر ڈونیٹسک میں یہ دونوں بہنیں جس جگہ رہ رہی ہیں وہاں تباہی وبربادی کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تو چور اچکوں کے پاس بھی اس علاقے سے چرانے کے لیے یا تو محض دھاتی باڑھیں بچی ہیں یا پھر بجلی کی تاریں۔

’’اور ہم کہاں جا سکتے ہیں‘‘، یہ جواب تھا انتونینا ویکولینا کا، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اور ان کی بہن ویلینٹیا کیوں ابھی تک اس خطرناک جگہ پر رہ رہی ہیں جو تباہی و بردبادی کا نشانہ بنے ڈونیٹسک کے ایئرپورٹ سے محض چند بلاک کی دوری پر واقع ہے۔

’’ہم میدان جنگ میں رہ رہے ہیں‘‘، یہ کہنا تھا سلامتی کے حوالے سے پریشان ایک اور بزرگ خاتون کا جنہوں نے اپنا نام گلینا بتایا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہاں جنگ 26 مئی 2014ء کو آئی اور اس نے اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔‘‘

اقوام متحدہ کے مطابق یوکرائن کے مشرقی حصے میں جاری خانہ جنگی کے سبب اب تک 6800 افراد ہلاک جبکہ 14 لاکھ سے زیادہ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

خانہ جنگی سے بُری طرح متاثرہ ڈونیٹسک کبھی نو لاکھ افراد کو گھر ہوا کرتا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ کوئلے کی کانوں میں کام کرتے تھے اور شام کے اوقات میں شہر کی سڑکوں پر بے فکری سے چہل قدمی کیا کرتے تھے۔ مغربی ممالک کے مبصرین کے مطابق اب شہر کی آبادی نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ڈونیٹسک ایئرپورٹ کے ارد گرد واقع سوویت دور کی تعمیر کردہ عمارات کے فلیٹوں میں رہائش پذیر ہیں

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ڈونیٹسک ایئرپورٹ کے ارد گرد واقع سوویت دور کی تعمیر کردہ عمارات کے فلیٹوں میں رہائش پذیر ہیں

ان میں سے بھی اب بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ڈونیٹسک ایئرپورٹ کے ارد گرد واقع سوویت دور کی تعمیر کردہ عمارات کے فلیٹوں میں رہائش پذیر ہیں۔ تاہم انہیں وہاں رہنے کے حوالے سے نہ صرف بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ان کی جان بھی ہر وقت خطرات میں گھِری رہتی ہے۔ وہ جب کھانے پینے کی کوئی چیز حاصل کرنے یا پھر کھانا پکانے کے لیے کوئلے وغیرہ کی تلاش کے لیے گھر سے باہر قدم رکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر باہر جاتے ہیں۔ کیونکہ اس علاقے میں نہ صرف روس نواز باغی بلکہ یوکرائن فوج کے ماہر نشانہ باز مختلف عمارات میں چھپے ہوتے ہیں۔

75 سالہ انتونینا کے مطابق، ’’ہم گزشتہ ایک برس سے بجلی اور گیس کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ اور روس نواز باغی ہمیں صرف روٹی مہیا کر سکتے ہیں۔ اس لیے مجھے یوکرائنی فوج والے علاقے میں جانا پڑتا ہے تاکہ میں وہاں سے کچھ کوئلے لا سکوں اور ہم آلو یا کھانے پینے کی کوئی اور چیز پکا سکیں۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ اس دوران ہم کھلی جگہوں پر جانے سے گریز ہی کرتے ہیں کہ مبادا کسی جانب کی فائرنگ کا نشانہ نہ بن جائیں۔

ڈونیٹسک کے جنگ زدہ علاقے میں رہنے والی ان بہنوں کے مطابق اب تو وہ شیلنگ کی صورت میں عمارت کے تہہ خانے میں بھی نہیں جا سکتیں کیونکہ وہ سیلاب کے پانی سے بھرے ہوئے ہیں۔ ’’ہم صرف دعا اور انتطار کرتے ہیں۔‘‘