1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جائزہ: افریقہ میں فساد کی جڑ، افریقی قیادت ہی ہے

براعظم افریقہ کے ہزاروں نوجوانوں نے ایک سروے میں کہا ہے کہ افریقہ میں تنازعات کی وجہ اقتدار کی ہوس کا شکار سیاست دان ہیں اور افریقہ کے لیڈران تشدد کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں۔

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال ’یونیسیف‘ کی جانب سے کرائے جانے والے سروے میں 15 سے 30 برس کے 86000 نوجوان نے حصہ لیا۔ ان کا تعلق کیمرون سے لے کر وسطی افریقی جمہوریہ اور مالی سے لے کر نائجیریا تک تھا۔

اس سروے کے نتائج سے متعلق افریقی یونین کمیشن کی سربراہ نکوسازانہ زوما نے کہا، ’’افریقی ممالک کے سربراہان کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ نوجوانوں کی رائے کو سنیں۔‘‘

سروے میں شامل ہر تین میں سے دو نوجوانوں کا کہنا تھا کہ افریقی سربراہان کو تنازعات کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جبکہ نصف سے زیادہ کی رائے میں افریقہ میں امن و امان کی خراب صورتحال کے ذمے دار سیاست دان ہیں۔

Südafrika Kapstadt Schule Radio

نوجوانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مضبوط معیشت، خودمختار خارجہ پالیسی اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری سے تنازعات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے

سروے کے نتائج کے مطابق نوجوانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مضبوط معیشت، خودمختار خارجہ پالیسی اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری سے تنازعات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

وسطی افریقی جمہوریہ کے ایک 17 سالہ طالب علم ڈاویلا انجیڈاکپا نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ’’وسطی افریقی جمہوریہ میں فساد کی اصل وجہ سرکاری معاملات میں بدانتظامی ہے۔‘‘

اس ملک میں سن 2013 کے شروع میں مسلمان ’سلیکا‘ جنگجوؤں نے اس وقت کے صدر کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد مسیحی ملیشیا نے مسلم اقلیتوں پر حملے کرنا شروع کر دیے تھے۔ اس تشدد کے باعث ملک کی آبادی کا لگ بھگ پانچواں حصہ اپنے گھروں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا تھا اور اب بھی ملک مذہبی بنیادوں پر بٹا ہوا ہے۔ اس خطے کو سمجھنے والے ماہرین کی رائے میں حال ہی میں صدر فاوسٹین ٹواڈیرہ کا منتخب ہونا ملک میں قیام امن میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

وسطی جمہوری افریقہ کے ایک 23 سالہ طالب علم کا کہنا ہے، ’’مجھے خوشی ہے کہ سیاسی قیادت امن کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔‘‘

نوجوانوں کی رائے جاننے کے لیے کرائے جانے والے سروے کے بارے میں یونیسیف کا کہنا ہے، ’’سروے کے نتائج سے کمیونٹیوں کو آگاہ کیا جائے گا۔‘‘

DW.COM