1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

تیکوانڈو: افغان سپر سٹار کا اولمپکس کا خواب چکنا چور

اسی مہینے شروع ہونے والے ریو اولمپکس میں افغانستان سے صرف تین ایتھلیٹ حصہ لیں گے لیکن ان میں تیکوانڈو سپر سٹار روح اللہ نیکپائی شامل نہیں ہوں گے، جو اس کھیل میں گولڈ میڈل کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہو سکتے تھے۔

Großbritannien Olympische Spiele in Londond - Rohullah Nikpah

روح اللہ نیکپائی کی چار سال قبل لندن اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد لی گئی ایک تصویر

افغانستان سے اس سال ریو اولمپک مقابلوں میں جو تین کھلاڑی حصہ لیں گے، ان میں سے ایک جوڈو کے کھلاڑی ہیں جبکہ باقی دو لائٹ ایتھلیٹکس مقابلوں میں شرکت کریں گے۔ ان تین کھلاڑیوں میں البتہ روح اللہ نیکپائی شامل نہیں ہیں، جو ہندو کش کی اس ریاست کے کامیاب ترین سپورٹس مین قرار دیے جاتے ہیں۔

DW.COM

اس بارے میں کابل سے اپنے ایک مراسلے میں ڈی ڈبلیو کی زاندرا پیٹرزمان لکھتی ہیں کہ اگر روح اللہ نیکپائی اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے ریو مقابلوں میں شرکت کے لیے جاتے تو وہ تیکوانڈو مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے کے لیے مضبوط ترین امیدواروں میں شمار ہوتے۔ لیکن ان کا ریو نہ بھیجا جانا اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں بدعنوانی کس طرح کھیلوں تک کے شعبے میں بھی پوری طرح سرایت کر چکی ہے۔

افغان دارالحکومت کابل میں اپنے گھر کے مہمان خانے میں روح اللہ نیکپائی جب ڈی ڈبلیو سے بات چیت کر رہے تھے، تو انہوں نے وہ الماری بھی کھول کر دکھائی جو تمغوں اور ٹرافیوں سے بھری پڑی تھی۔ انہی میں وہ دو کانسی کے تمغے بھی شامل تھے، جو نیکپائی نے بیجنگ اور لندن اولمپکس میں جیتے تھے۔

یہ سچ ہے کہ نیکپائی کا دو مرتبہ اولمپکس میں کانسی کے تمغے جیتنا نہ صرف ذاتی طور پر ان کے لیے دو بہت تاریخی لمحات تھے بلکہ کھیلوں کے دلدادہ افغان عوام کے لیے بھی یہی دو یادگار لمحات ایسے مواقع تھے کہ وہ اپنے ملک میں جنگ کی تباہ کاریوں کو تھوڑی دیر کے لیے بھول کر اپنے ہم وطن نیکپائی پر فخر کر سکتے۔

روح اللہ نیکپائی 2008ء میں افغانستان کی تاریخ کے وہ پہلے کھلاڑی بن گئے تھے، جس نے اولمپک مقابلوں میں کوئی تمغہ جیتا تھا۔ کانسی کا یہ تمغہ جیتنے پر روح اللہ نیکپائی راتوں رات ایک سپر سٹار بن گئے تھے۔

ان کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کا تعلق ایک ایسے افغان خاندان سے ہے، جو طویل عرصے تک ایران میں رہائش پذیر رہا ہے۔ روح اللہ نے اپنے بچپن سے جوانی تک کا عرصہ ایران میں مہاجر کے طور پر گزارا اور پھر وہ واپس اپنے وطن لوٹ گئے تھے۔

نیکپائی نسلی طور پر افغانستان کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جسے اپنے ہی وطن میں ایک شیعہ مذہبی اقلیت کے طور پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

Olympia, Taekwondo, Levent Tuncat, freies Bildformat

دو ہزار آٹھ کے بیجنگ اولمپکس میں افغانستان کے روح اللہ نیکپائی، دائیں، جرمنی کے لیوینٹ تُونکاٹ کے خلاف ایک مقابلے میں

2008ء میں بیجنگ اولمپکس میں تیکوانڈو کے مقابلوں میں کانسی کا تمغہ جیت کر نیکپائی جب واپس کابل لوٹے تھے، تو ان کا استقبال کرنے والے ہزارہا افغان شہری انہیں کندھوں پر اٹھا کر قومی اسٹیڈیم میں لے کر گئے تھے اور بعد میں ملکی صدر نے خاص طور پر صدارتی محل میں ان سے ملاقات کر کے ان کا شکریہ ادا کیا تھا اور تحائف بھی پیش کیے تھے۔ پھر چار سال بعد 2012ء میں نیکپائی نے لندن اولمپکس میں بھی کانسی کا ایک تمغہ جیتا تھا۔

نیکپائی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ انٹرویو میں کہا، ’’افغانستان صرف جنگ نہیں ہے۔ یہاں بہت زیادہ ٹیلنٹ پایا جاتا ہے۔ کھیلوں کے ذریعے ہم اپنے ملک کی بین الاقوامی ساکھ میں بہت بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔‘‘

زاندرا پیٹرزمان لکھتی ہیں کہ روح اللہ نیکپائی ریو اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتے، اس کی وجوہات اتنی ہی پیچیدہ ہیں جتنی کہ افغانستان میں کھیلوں کے شعبے میں بیوروکریسی۔ افغان اولمپک کمیٹی بھی باقی ماندہ ملک کی طرح تقسیم کا شکار ہے اور اس میں کرپشن بھی پائی جاتی ہے۔ اس کمیٹی کے تو سربراہ بھی دو ہیں: ایک منتخب اور دوسرا، جسے ملکی صدر کی حمایت حاصل ہے۔ اسی لیے کھیلوں کے شعبوں کی کئی ملکی تنظیمیں بھی واضح طور پر دو دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہیں۔

روح اللہ نیکپائی اس لیے ریو نہیں جا سکیں گے کہ وہ اولمپکس کے لیے اپریل میں فلپائن میں ہونے والے کوالیفیکیشن ٹورنامنٹ میں ناکام رہے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ افغان اولمپک کمیٹی میں داخلی رسہ کشی، بہت تاخیر سے فلپائن پہنچنے، تنظیمی بدنظمی اور شدید تھکاوٹ نے انہیں موقع ہی نہیں دیا تھا کہ وہ اس ٹورنامنٹ میں کامیاب رہتے اور ریو جانے کے لیے کوالیفائی کرتے۔