1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس کے معزول صدر کے رشتہ داروں کا جرمنی میں ’کاروبار‘

سرکاری طور پر جرمن شہر فرینکفرٹ میں کام کرنے والے زین العابدین بن علی کے رشتے دار تیونس کی سیاحت کے لئے سرگرم تھے۔ تاہم وہ شاذ و نادر ہی اپنے دفتر میں نظر آتے تھے۔

default

تیونس میں گزشتہ ماہ ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے

جرمن نیوز ویب سائٹ ’ شپیگل‘ کے مطابق تیونس کے معزول صدر زین العابدین بن علی کے دو رشتےدار فرینکفرٹ میں بظاہر کسی روزگار سے منسلک تھے، تاہم اب ان کا کوئی نام ونشان نہیں مل رہا۔

ماضی میں بن علی کے گھر والوں نے دراصل جرمنی میں بڑی پُر سکون رندگی بسر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بن علی کے ایک بہنوئی کو ماہانہ تنخواہ فرینکفرٹ میں قائم ٹورسٹ آفس سے مل رہی تھی۔ 61 سالہ فاتح کبھی کبھار ہی فرینکفرٹ میں اپنے دفتر میں نظر آتے تھے۔

Plakat Bild Poster von Mohamed Bouazizi der sich selbst angezündet hat in Tunesien Sidi Bouzid

تیونس میں خود کو نذر آتش کرنے والا ایک 26 سالہ نوجوان کی تصویر

بتایا جاتا ہے کہ بن علی کے بہنوئی فاتح اپنے گاہکوں کے سامنے خود کو تیونس کے وزیر سیاحت کی حیثیت سے متعارف کرواتے تھے جبکہ ان کی ملازمت کے دستاویزات پر اُن کا عہدہ ٹریولنگ کمپنی کے معاون کے طور پر درج ہے۔ فاتح کی بیوی حایت کی عمر 58 سال بتائی جاتی ہے اور اُن کا نام بھی فرینکفرٹ کے اس سیاحتی دفتر میں تیونس کی قومی ایئر لائن تیونس ایئر کی ترجمان کی حیثیت سے درج تھا۔ تاہم اس دفتر کے منتظم کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ڈھائی سال کے اندر حایت ایک بار بھی اس دفتر میں نہیں آئیں۔

جرمن شہر ڈارم شٹڈ کے دفتر استغاثہ نے اس امر کے امکانات ظاہر کیے ہیں کہ غالباً یہ دونوں میاں بیوی حقیقت میں کسی اور سرگرمی میں مصروف رہے ہیں۔ ان تمام امور کی چھان بین کرنے والوں کو شبہ ہے کہ تیونس کے معزول صدر کی بہن اور بہنوئی ’منی لانڈرنگ‘ کے کیس میں ملوث رہے ہیں۔ اس کے سبب فرینکفرٹ کے نزدیک ایک پُر فضا مقام Dreieich میں 200 مربع میٹر کے رقبے پر قائم اُس مکان کی حکام نے تلاشی لی، جس میں وہ رہتے تھے۔ تفتیش کاروں نے مشکوک اشیا تحویل میں لے لی ہیں۔

Euro-Skulptur vor EZB in Frankfurt am Main

جرمنی میں بن علی کے رشتے داروں کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد

اس مکان میں بن علی کی بہن اور اُن کے خاوند کا نام بطور مکیں 90 کی دہائی کے وسط سے رجسٹرڈ تھا۔ ان کے ہمسائیوں نے بتایا ہے کہ اس جوڑے کو سال میں دو تین بار ہی اس گھر میں دیکھا گیا۔

زین العابدین بن علی کی برطرفی کے بعد سے جرمن حکام نے حایت بن علی اور فاتح کے جرمنی میں قائم بینک اکاؤنٹس اور دیگر اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس