1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تیونس کا ’یاسمین انقلاب‘ اور چین کے ’یاسمین جلوس‘

ایک آن لائن مہم کے دوران چین کے 13 شہروں کے عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہر اتوار کو باہر نکل کر حکومتی اقدامات میں زیادہ شفافیت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں مظاہرے کیا کریں۔

default

چین کا ’یاسمین انقلاب‘

یہ نئی اپیل بھی چین سے باہر ایک وَیب سائٹ Boxun.com سے جاری کی گئی ہے اور لگتا ہے کہ اِس وَیب سائٹ کے پیچھے بھی وہی گروپ کارفرما ہے، جس نے پوری عرب دُنیا میں ہلچل پیدا کرنے والے احتجاجی مظاہروں کی طرز پر چین میں بھی گزشتہ اتوار کو مظاہرے منظم کرنے پر زور دیا تھا۔

اِس اپیل کے جواب میں بیجنگ اور دوسرے شہروں میں اجتماع کے مجوزہ مقامات پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری دیکھی گئی تاہم اِن اجتماعات میں شرکاء کی تعداد بہت کم رہی اور کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اب نئے سرے سے جاری ہونے والی اپیل میں کہا گیا ہے، ’اب ہمیں یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ چینی حکمران (کمیونسٹ) پارٹی پر دباؤ بڑھا دیں‘۔ اپیل کے مطابق ’اگر پارٹی مخلص ہو کر بدعنوانی کی سرکوبی نہیں کرتی اور عوام کی طرف سے نگرانی کے اصول کو تسلیم نہیں کرتی تو پھر اِسے براہِ کرم منظر سے ہَٹ جانا چاہیے‘۔ غالباً اِس اپیل کی مخاطب نیشنل پیپلز کانگریس بھی ہے، جس کا کئی روزہ اجلاس پانچ مارچ سے شروع ہو رہا ہے۔

Flash Galerie Chinesische Netizen starten Jasminerevolution in China

20 فروری کو بیجنگ میں مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ارکان بھاری تعداد میں موجود ہیں

چینی ذرائع ابلاغ میں اُن احتجاجی مظاہروں کے بارے میں رپورٹنگ کو سینسر کیا جاتا رہا ہے، جن کے ذریعے تیونس اور مصر میں عشروں سے برسرِ اقتدار چلے آ رہے حکمرانوں کا بوریا بستر گول کر دیا گیا۔ حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم گروپوں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وُسطیٰ میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے چین میں ایسے ہی مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس نے کم از کم 100 کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔

آج بدھ کو امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے اِن کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اِن کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اِس تنظیم نے چینی حکام پر یہ بھی زور دیا ہے کہ نوبل امن انعام یافتہ لیو شاؤ بو کی اہلیہ لیو شیا کے ساتھ ساتھ نابینا کارکن شَین گوانگ چَینگ اور اُس کے اہلِ خانہ کی نظر بندی بھی ختم کر دی جائے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس