1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تیونس نے ڈوئچے ویلے کا "BOBs" انعام جیت لیا

ڈوئچے ویلے ہر سال مختلف زبانوں میں بلاگز لکھنے والوں کے مابین مقابلہ منعقد کراتا ہے۔ رواں برس یہ ایوارڈ لینا بن مھنی نے جیت لیا ہے۔

default

تیونس سے تعلق رکھنے والی لینا کو یہ ایوارڈ سابق صدر بن علی کے خلاف چلنے والے تحریک کے دوران لکھے گئےان کے بلاگز پر دیا گیا۔

ڈوئچے ویلے کی جیوری میں دنیا کے مختلف ممالک کے نامور بلاگرز اور صحافی شامل تھے۔ ان افراد نےگیارہ زبانوں اور سترہ مختلف شعبوں میں سے بہترین بلاگز کا انتخاب کرنا تھا۔ ان زبانوں میں عربی، انگریزی، چینی،جرمن، فارسی، فرانسیسی، انڈونیشی، پرتگالی، روسی، ہسپانوی اور بنگالی شامل ہیں۔ یہ ساتویں مرتبہ ہے کہ ڈوئچے ویلے کی جانب سے یہ مقابلہ منعقد کرایا گیا۔

ڈوئچے ویلے کی بین الاقوامی جیوری کے مطابق اس مرتبہ بہترین بلاگرکا انتخاب بہت ہی مشکل تھا۔ جیوری کے بقول’’جن امیدواروں کو چنا گیا تھا، ان سب نے آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے لیے بہت کچھ تحریر کیا۔ تاہم دسمبر2010ء سے لے کر جنوری2011ء کے دوران لیناٰ کی تحریروں نے تیونس میں رونما ہونے والے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا۔

Deutsche Welle BOBs Pressekonferenz

ڈوئچے ویلے کی بین الاقوامی جیوری کے مطابق اس مرتبہ بہترین بلاگرکا انتخاب بہت ہی مشکل تھا

’ Best of Blog Award ‘ جسے ’BOBs‘ بھی کہا جاتا ہے، کو انٹرنیٹ کی دنیا کا آسکر ایورڈ کہا جاتا ہے۔ ڈوئچے ویلے میں منعقد ہونے والے بلاگز کے اس مقابلے میں دنیا بھر سے کوئی21 ہزار تجاویز موصول ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ 90 ہزار افراد نے آئن لائن ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔

لینا 27 سال کی ہیں اور وہ تیونس یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے فرانسیسی، عربی اور انگریزی زبانوں میں بلاگ لکھ رہی ہیں۔ وہ زیادہ تر معاشرتی مسائل اور ملک میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو موضوع بناتی ہیں۔

گزشتہ برس جیسے ہی سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو لینا نے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور وہاں ہونے والے مظالم، تشدد اور جبرکی داستانیں سن کر بلاگز لکھے۔ اس دوران تیونس میں ان کی تحریروں پر پابندی بھی عائد کر دی گئی اور ان کے بلاگز صرف بیرون ملک ہی پڑھے جا سکتے تھے۔ جیوری کے مطابق لینا بن مھنی سماجی ناانصافی کے خلاف بھرپور انداز میں سرگرم عمل ہیں۔

ڈوئچے ویلے بلاگز مقابلے میں انسانی حقوق کے موضوع کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اس شعبے کا خصوصی انعام انگریزی زبان کے بلاگ ’Migrant Rights in the Middle East ‘ کو دیا گیا۔ ان میں مشرقی وسطی میں رہنے والے افراد کے حالات زندگی اور ان کی مشکلات کی جانب دنیا کی توجہ مرکوز کروانے کی کوشش کی گئی۔ ساتھ ہی بلاگرز نے اپنے تحریروں میں عرب ممالک میں کام کے ابتر حالات پر تنقید کرتے ہوئے غلامی کی اس جدید صورت کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل