1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس میں عبوری دستور کی منظوری

افریقی ملک تیونس میں آمریت کے زوال کے بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے معرض وجود میں آنے والی پارلیمنٹ نے دستوری و حکومتی معاملات کو آگے بڑھانے کا عمل شروع کردیا ہے۔

default

النہضہ کے قائد راشد الغنوشی

تیونس میں آمریت کے اختتام کے بعد ہونے والے پہلے آزاد انتخابات کے بعد نئی پارلیمنٹ نے ملک کے لیے عبوری دستور کی منظوری دے دی ہے۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اب ملک میں قائم حکومتی نظام وضح کیا جا سکے گا۔ تیونس کے 217 رکنی ایوان کے لیے الیکشن گزشتہ ماہ نومبر میں ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ نے عبوری دستور کی 26 مختلف شقوں کو فرداً فرداً منظور کیا۔

عبوری دستور کی شقوں کے ذریعے شرائط اور طریقہ کار وضع کیا گیا ہے کہ کس طرح تیونس کے ملکی انتظامی ڈھانچے کے اندر انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ اپنے اپنے امور اور فرائض کی تکمیل کریں گے۔ اس دوران ایک نئے دستور کو مرتب کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا اور اس کے بعد نئے پارلیمانی الیکشن کا انعقاد ہو گا۔

Tunesien Ennahada Vorstandssitzung Fr. Bildformat

النہضہ اعتدال پسند اسلامی جماعت ہے

پارلیمنٹ میں عبوری دستور کی منظوری کے لیے ہونے والی رائے شماری کے دوران اس کی حمایت میں141ووٹ ڈالے گئے۔ 37 نے عبوری دستور کی مخالفت کی جب کہ 39 اراکین پارلیمنٹ کارروائی میں شریک نہیں ہوئے۔ عبوری دستور کی منظوری کے معاملے پر پارلیمنٹ میں اراکین کے درمیان پانچ روز تک زوردار بحث دیکھی گئی۔ اس دوران کئی اراکین نے انتہائی سخت تقاریر بھی کیں۔ پارلیمنٹ میں النہضہ پارٹی کے رکن امر الریاض نے منگل کے روز بحث میں حصہ لیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوام حکومت کے عملی اقدامات کے منتظر ہیں اور وہ اب صورت حال میں تبدیلی کے انتظار میں تھکنے لگے ہیں۔

عبوری دستور کی منظوری کے بعد اب صدر اور نئی حکومت کے سربراہ کا انتخاب کیا جانا ہے۔ اسپیکر کے مطابق تیونس کے نئے صدر کا انتخاب کل پیر کی سہ پہر کیا جائے گا۔ اس عہدے کے لیے بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان ہونے والی مفاہمت کے تحت منصف مرزوقی کا انتخاب یقینی ہے۔ النہضہ کے حمادی الجبالی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔ موجودہ اسپیکر مصطفیٰ بن جعفر کا انتخاب بھی اسی سیاسی ڈیل کے تحت کیا گیا تھا۔

اپوزیشن نے عبوری دستور کی منظوری کی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا اور اس کا مؤقف تھا کہ صدر کی اہلیت کے لیے مسلمان ہونے کے علاوہ اس کا لازماً تیونس کا پیدائشی شہری ہونا بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ سیاسی ڈیل کے تحت صدر ملک کی خارجہ پالیسی کی تراش خراش کا نگران ہو گا۔ تیونس کے ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کے مستعفی ہونے کے بعد نئی حکومت کے سربراہ الباجي قائد السبسی نے حکومت سازی میں پیش رفت کے بعد اب استعفیٰ دے دیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس