تیونس میں جمہوریت کے محافظین کے لیے امن کا نوبل انعام | حالات حاضرہ | DW | 10.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس میں جمہوریت کے محافظین کے لیے امن کا نوبل انعام

افریقی ملک تیونس میں مکالمت کے ذریعے جمہوریت کی طرف منتقلی میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے چار گروپوں کی ایک آرگنائزیشن کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔

ناروے کی نوبل کمیٹی کی سربراہ کارین سیسیلیے کولمن نے اوسلو میں جمرات 10 دسمبر کو منعقد ہونے والی

تقسیم انعام کی تقریب کے موقع پر کہا،’’اس سال کا یہ انعام حقیقی معنوں میں امن کا نوبل انعام ہے، جسے بدامنی اور جنگ کے خلاف جدوجہد کے پس منظر میں دیا گیا ہے‘‘۔ اس تقریب کے موقع پر ناروے کے بادشاہ ہارالڈ بھی شامل ہوئے۔ اس موقع پر جہادیوں کے حملوں کے خطرات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

نوبل کمیٹی کی سربراہ کارین کا مزید کہنا تھا،’’ ہم ایک ہنگامہ خیز دور سے گزر رہے ہیں۔ نارتھ افریقہ ہو یا مشرق وسطیٰ بہاں تک کہ یورپ میں بھی حالات سنگین ہیں۔ لاکھوں افراد جنگ اور بحران کے سبب اپنے ملکوں سے فرار ہوکر دیگر ممالک کا رُخ کر رہے ہیں۔ انہیں ظلم و جبر اور مصائب کا سامنا ہے۔ ‘‘

Norwegen Friedensnobelpreis Tunesisches Quartett Houcine Abassi

تیونس کے جنرل لیبرل یونین UGTT کے سربراہ حسین عباسی

تیونس میں آنے والی بہت بڑی سیاسی تبدیلی کی تعریف کرتے ہوئے اُنہوں نے مزید کہا،’’اگر ہر ملک اپنے ہاں وہ سب کچھ کر لیتا جو تنزانیہ نے کیا، مثال کے طور پر مکالمت، جمہوریت اور مساوی حقوق کو یقینی بنانے کا کام، تو بہت کم لوگ اپنا ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوتے‘‘۔

تیونس میں ایک چار فریقی نیشنل ڈائیلاگ کا ادارہ قائم کیا گیا تھا جو چار مختلف سول سوسائٹی گروپوں پر مشتمل تھا۔ اس اتحاد نے 2013 ء میں نہایت نازک دور میں تنزاینہ کے سیاسی نظام کی جمہوریت کی طرف منتقلی کے عمل میں بہت مدد کی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب تیونس سماجی بدامنی اور عدم استحکام کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا۔

اس چار فریقی گروپ کو ایک طویل پُرخار رستے سے گزر کر تیونس میں سیاسی مکالمت کی فضا قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ خاص طور سے اسلام پسند حلقوں اور حركة النهضة پارٹی اور اُس کے مخالفین کے مابین ایک قومی مکالمت کا سلسلہ شروع کرنا بہت ہی دشوار عمل تھا۔

امن کا نوبل پرائز حاصل کرنے والے اس گروپ کی کوششوں سے ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل پا گیا جس کے توسط سے ہونے والی مکالمت میں بحرانوں کے حل کے لیے ایک پُر امن اور عدم تشدد پر مبنی حل تلاش کرنے کا عمل آسان ہو گیا۔

Norwegen Friedensnobelpreis Tunesisches Quartett

چار گروپوں کی ایک آرگنائزیشن کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے

ناروے کی نوبل کمیٹی کی سربراہ کارین سیسیلیے کولمن کے بقول،’’یہ ساری جدوجہد ایسے مضبوط اداروں کے قیام کی ہے جن کی مدد سے معاشرے میں انصاف اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی مکالمت اور باہمی تعاون پر سیاسی قوتوں کو آمادہ کرنا بھی اس سلسلے کی ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔

اس چار فریقی ادارے میں ہیومن رائٹس لیگ، جنرل لیبرل یونین UGTT ، انڈسٹری ٹریڈ اور ہینڈی کرافٹس کا وفاق اور وکلاء شامل ہیں۔

تیونس کی ہیومن رائٹس لیگ کے سربراہ عبدالستار بن موسیٰ نے اے ایف پی کو امن کے نوبل انعام کے اعلان سے چند گھنٹوں قبل انٹرویو دیتے ہوئے کہا،’’ ہتھیاروں کا استعمال آخر کار تباہی کا ہی سبب بنتا ہے۔ لیبیا میں مثال کے طور پر اب ایک خاص قسم کے ڈائیلاگ کی فضا پائی جاتی ہے۔ ہمسائے ممالک میں بھی بحرانوں کا حل مکالمت کے ذریعے اور سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی کی مدد سے نکالا جانا چاہیے اور اس تمام میں دہشت گرد دھڑوں کو بالکل ایک کنارے پر لگا دیا جانا چاہیے‘‘۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات