1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان

تیونس کے عبوری صدر فواد المبزع نے اعلان کیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات چوبیس جولائی کو منعقد کیے جائیں گے۔ یہ اسمبلی بعد ازاں ملک کا نیا آئین ترتیب دے گی۔

default

تیونس کے عبوری صدر فواد المبزع

فواد المبزع نے اپنے براہ ارست نشریاتی خطاب میں کہا کہ تیونسی عوام ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، ’ ہم نے آج ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔۔۔ نیا سیاسی نظام ملک کو کامیابی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گا‘۔

تیونس میں آنے والے یاسمین انقلاب کے بعد سے فواد المبزع پر بہت زیادہ دباؤ تھا کہ وہ عام انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کریں۔ ان کی طرف سے اس نئے اعلان کے بعد حکومت کے کئی ناقدین نے اسے اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ تیونس کے سابق رہنما زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد سے وہاں ایک عبوری حکومت قائم ہے۔

تیونس میں عوام نے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع کر دیے تھے، جس کے نتیجے میں بن علی ملک سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

Proteste in Tunis

زین العابدین بن علی عوام کی طاقت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے تھے

فواد المبزع نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ملک کا موجودہ آئین انقلاب کے بعد عوام کی امنگوں کا ترجمان نہیں رہا ہے اور یہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوبیس جولائی کو منعقد کروائے جانے والے انتخابات کے بعد جو کامیاب امیدوار پارلیمان میں آئیں گے، وہ ملک کا نیا آئین لکھیں گے۔

فواد المبزع نے کہا ہے کہ اقتدار کی کامیاب منتقلی تک وہ صدر کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ موجودہ مینڈیٹ کے مطابق ان کی مدت صدارت پندرہ مارچ کو ختم ہو رہی ہے تاہم انہوں نے ایسی تمام تر قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا کہ وہ اس مدت کے بعد عبوری صدر کے عہدے سے ہٹ جائیں گے۔

المبزع نے کہا کہ مارچ تک ایک خصوصی الیکٹورل سسٹم بنا لیا جائے گا تاکہ انتخابات کا مشکل مرحلہ کامیابی سے سر انجام دیا جا سکے۔ اسی دوران انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے کاموں کی طرف لوٹ آئیں تاکہ ملکی معیشت کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات