1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تیونس میں آئین ساز اسمبلی کے لیے انتخابات

اتوار 23 اکتوبر کو تیونس کے رائے دہندگان ایک آئین ساز اسمبلی کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ منتخب ہونے والے 217 اراکین اسمبلی ملک کے لیے ایک نیا آئین تیار کریں گے اور نئے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منظم کریں گے۔

آزمائشی انتخابات کا ایک منظر

آزمائشی انتخابات کا ایک منظر

تیونس میں آمریت سے جمہوریت کی جانب سفر کے سلسلے میں یہ انتخابات کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان انتخابات میں ایک سو سے زیادہ جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کر رکھے ہیں۔ موزوں امیدوار کا انتخاب آسان نہیں ہو گا کیونکہ ان جماعتوں میں بائیں بازو کی اعتدال پسند جماعتوں سے لے کر عرب اتحاد کی حامی سوشلسٹ جماعتوں اور سائنٹیفک سوشلزم کی ترجمان جماعتوں تک مختلف طرح کی جماعتیں شامل ہیں۔

تیونس میں انتخابی مہم کا ایک منظر

تیونس میں انتخابی مہم کا ایک منظر

مبصرین کا اندازہ ہے کہ ان میں سے تقریباً دَس جماعتوں کو آئین ساز اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہو جائے گی۔ ساتھ ساتھ مختلف امیدوار آزاد حیثیت میں بھی اسمبلی تک پہنچیں گے۔ سائنس اینڈ پالیٹکس فاؤنڈیشن کے تیونس سے متعلقہ امور کے ماہر عظیم الضفراوی کے خیال میں کسی عبوری سیاسی دور کے لیے اتنی زیادہ جماعتوں کا ہونا غیر معمولی بات نہیں ہے:’’تیس سال کی آمریت کے بعد اس طرح کی بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتوں کا منظر عام پر آنا ایک معمول کی بات ہوا کرتی ہے۔ مختلف مفادات کے حامل گروپوں نے جماعتیں بنا لی ہیں۔ ابھی وہاں کے لوگوں کے پاس کوئی ایسی سیاسی روایات یا ثقافت نہیں ہے، جس سے اُنہیں پتہ چل سکے کہ بڑی جماعتیں کیسے زیادہ بہتر انداز میں قائم کی جا سکتی ہیں۔ بہرحال یہ مرحلہ بھی آ جائے گا، چھوٹی جماعتیں مل کر بڑی جماعتوں کی شکل اخیار کریں گی اور یوں رفتہ رفتہ بڑے سیاسی بلاک وجود میں آ جائیں گے۔‘‘

تین مرکزی دھارے ابھی سے نظر آنے لگے ہیں۔ ایک تو وہ نوجوان انقلابی اور سیاسی کارکن ہیں، جو انتہائی جدید تیونس کے خواہاں ہیں لیکن جنہوں نے ابھی تک کوئی جماعت نہیں بنائی ہے۔ پھر سابقہ حکومتی ارکان کے اردگرد جمع ایک دھڑا اُن لوگوں کا ہے، جو بن علی کی حکومت میں داخلی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے تھے۔ یہ آزاد خیال لوگ مغرب نواز دھڑے کے نمائندے ہیں اور تیونس کو جدید خطوط پر اُستوار کرنا چاہتےہیں۔

تیونس میں انتخابات سے پہلے دیواروں پر لگے پوسٹر

تیونس میں انتخابات سے پہلے دیواروں پر لگے پوسٹر

ایک خاص طور پر با اثر دھڑا سیاسی اسلام کا ہے، جن کی نمائندگی انھضہ پارٹی کر رہی ہے، جو بن علی کے دورِ حکومت میں استحصال کا نشانہ بنتی رہی۔ اگرچہ اس کی کامیابی کے امکانات روشن بتائے جا رہے ہیں لیکن جرمن کونراڈ آڈیناؤر فاؤنڈیشن کے تیونس میں قائم آفس کے سربراہ کلاؤس لوئٹسر کے مطابق یہ پارٹی انتشار کا شکار ہے:’’النھضہ میں دو رجحانات نمایاں ہیں۔ ایک وہ، جو ترکی کی طرح مذہب اور ریاست کو الگ الگ رکھنے کے حامی ہیں۔ دوسرے وہ، جو ملک میں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

انتخابات میں کامیابی خواہ کسی بھی جماعت کے حصے میں آئے، ایک بات واضح ہے کہ اُس جماعت کو معیشت پر توجہ دینا ہو گی۔ تیونس کے سیاستدانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوام کے بنیادی حالاتِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

رپورٹ: آنے آلمیلنگ / امجد علی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM