1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تیونس مذہبی بنیاد پرستی کی جانب گامزن؟

تیونس میں یاسمین انقلاب کے بعد بنیاد پرستی کے موضوع پر سب سے زیادہ بحث کی جا رہی ہے۔ بنیاد پرست اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔ کالعدم جماعت ’النہضۃ اسلاميہ ‘ کے سربراہ راشد غنوشی بھی واپس تیونس پہنچ چکے ہیں۔

default

راشد غنوشی 20 سال کی جلا وطنی کے بعد تیونس واپس پہنچے ہیں

راشد غنوشی اور ان کے حامیوں کو اس وقت تیونس میں ایک ایسے معاشرے کا سامنا ہے، جو مذہب اور سیکولرازم کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔ معاشرے میں بہت سے لوگوں کو خدشہ ہےکہ کہیں ملک میں کوئی اسلام پسند حکومت قائم نہ ہو جائے جبکہ کئی حلقے مذہبی بنیادوں پر بننے والی کسی نئی حکومت کو تسلیم کرنے پر بھی آمادہ ہیں۔

تیونس میں خواتین کی جانب سے کئی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ان میں شرکت کرنے والی خواتین برقعہ پوش یا نقاب پوش نہیں تھیں بلکہ وہ جینز، ٹی شرٹ اور دیگر مغربی لباس زیب تن کیے ہوئے تھیں۔ ان مظاہروں میں وکیل زوہیر مہلوف نے بھی شرکت کی۔ ان کا کہنا ہے، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ معاشرے میں خواتین کے کردار کو سراہا جائے۔ ہمیں ڈر ہے کہ تیونس کہیں قرون وسطیٰ کی طرف نہ لوٹ جائے۔ ہم تیونس میں جمہوریت چاہتے ہیں۔‘‘

تیونس میں ہونے والے مظاہروں کے دوران راشد غنوشی اور مسلم بنیاد پرستوں کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے تھے۔ راشد غنوشی 20 سال کی جلاوطنی کے بعد لندن سے تیونس پہنچے ہیں۔ تیونس میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے چند گروپوں نے فیس بک کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ غنوشی کا استقبال کرنے کے لیے منی روک پہن کر جائیں گی۔

Frauen demonstrieren in Tunesien aus Angst vor Islamisten

تیونس میں خواتین نے بھی مذہبی بنیاد پرستوں کے خلاف مظاہرے کیے

لیکن بعد ازاں انہیں اپنا یہ ارادہ ترک کرنا پڑا تھا۔ زوہیر مہلوف کے بقول کاش ایسا ہوتا اور وہ یہ منظر دیکھتیں۔’’غنوشی پر یہ واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ اس دوران تیونس ایک بہت ہی لبرل اور آزاد خیال ملک بن چکا ہے۔‘‘

النہضۃ اسلاميہ کے ترجمان عجمی لوریمی کے مطابق تیونس کے باشندوں کے خدشات سمجھ سے باہر ہیں۔’’ہم پر بنیاد پرست اور جہالت پسند ہونے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جوبالکل بے بنیاد ہیں۔ ہم سخت موقف رکھتے ہیں، اس نظریے کو ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسلام پسندوں کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ انہیں اس نظام میں ان کی جگہ دی جائے۔‘‘

النہضۃ اسلاميہ اگلے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے گی اور یہ جماعت بڑی خوشی سے اپنا موازنہ ترکی میں حکمران جماعتAKP سے کر رہی ہے۔ عجمی لوریمی کا کہنا ہے کہ AKP نے ثابت کیا ہے کہ اسلام اور جمہوریت کو ایک ساتھ ملا کر حکومت کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول،’’میرے خیال میں تیونس ایک سیکولر معاشرہ نہیں ہے۔ سابق صدر بن علی نے گزشتہ برسوں کے دوران مذہب کو سیاست سے جدا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن ابھی بھی معاشرے میں مذہب ایک بنیادی عنصر کے طور پر موجود ہے‘۔

النہضہۃ اسلاميہ پراس وقت بہت دباؤ ہے کیونکہ ملک میں مذہبی انتہاپسندوں نے گزشتہ دنوں پہلے ایک پادری کو قتل کیا اور پھر ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر جمع ہو کر یہودیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ ملک میں کئی شراب خانوں اور نائٹ کلبوں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تیونس میں انتہا پسندی پر قابو پانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کثیر الجماعتی معاشرے کی جانب قدم بڑھائے جائیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس