1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس عالمی فوجداری عدالت میں شامل

شمالی افریقی ممالک میں تیونس بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی میں شامل ہونے والا پہلا ملک بننے جا رہا ہے۔ دوسری جانب آئی سی سی لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی گرفتاری کے وارنٹس کے اجراء کا فیصلہ پیر کو کرے گی۔

default

عرب دنیا میں موجودہ ’انقلاب‘ کے آغاز کا باعث بننے والے ملک تیونس نے جمعے کے روز انٹرنیشنل کرِمنل کورٹ (بین الاقوامی فوجداری عدالت) میں شمولیت سے متعلق اہم دستاویزات پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس طرح شمالی افریقی ممالک میں تیونس اس عالمی عدالت کو تسلیم کرنے والا پہلا جبکہ مجموعی طور پر 116واں ملک ہے۔ یکم ستمبر سے تیونس اس عدالت کا باقاعدہ رکن ملک بن جائے گا۔

دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی فوجداری عدالت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’آئی سی سی تیونس کے اس فیصلے کو خوش آمدید کہتی ہے، جس کے تحت بین الاقوامی برادری کی ان کوششوں کو تقویت ملے گی کہ نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحانہ اقدامات کرنے والوں کو سزا دی جا سکے۔‘‘

Proteste in Tunesien

تیونس میں عوامی انقلاب نے صدر بن علی کو ملک سے فرار پر مجبور کر دیا تھا

ویب سائٹ کے مطابق، ’’تیونس، جس کا یاسمینی انقلاب شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے حق میں مظاہروں کا سرچشمہ بنا، شمالی افریقہ کا پہلا جبکہ عرب لیگ کا چوتھا ملک ہے، جو آئی آئی سی کا رکن ملک ہو گا۔‘‘

واضح رہے کہ متعدد مسلم خصوصا عرب ممالک آئی سی سی پر مغربی طاقتوں کے ایک ہتھیار کا الزام عائد کرتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

دوسری جانب آئی سی سی کے ججز پیر کے روز ممکنہ طور پر معمر قذافی، ان کے بیٹے سیف الاسلام، لیبیا کےخفیہ ادارے کے سربراہ اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں کلیدی کردار ادا کرنے والے سرکاری عہدیداروں کی گرفتاری کے حوالے سے وارنٹس کے اجراء کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

لیبیا آئی سی سی کا رکن مملک نہیں ہے، تاہم اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے لیبیا میں مظاہرین کے خلاف سرکاری فورسز کی طرف سے طاقت کے بے دریغ استعمال کے بعد یہ معاملہ آئی سی سی کو سونپا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس