1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس: صدارتی محل کےگرد جنگ کی صورت حال

تیونس کی فوج اور ملک چھوڑ کر جانے والے صدر زین العابدین بن علی کے وفادار سکیورٹی گارڈز کے درمیان صدارتی محل کے اردگرد خاصی زور دار جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

default

تیونس میں فعال عبوری حکومت کا قیام آج عمل میں آسکتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دارالحکومت تیونس کے شمال میں کارتھیج نامی علاقے میں واقع صدارتی محل کے اردگرد ہونے والی جھڑپوں میں بھاری گولہ بارود کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ سکیورٹی کے اعلیٰ اہلکاروں کے مطابق صدارتی محل میں صدر کے حامی ایک طرح سے مورچہ بند تھے۔ اسی طرح مرکزی اپوزیشن جماعت PDP کے صدر دفتر کے قریب بھی چند مسلح افراد کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کا دفتر وزارت داخلہ کی عمارت کے قریب ہے۔ کئی اہم افراد کی گرفتاریوں کو بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔ ان میں فرار ہونے والے صدر کی سکیورٹی کے سربراہ علی شریعتی اور ان کے بھتیجے قیس بن علی شامل ہیں۔

تیونس کے دانشور اور سماجی و تعلیمی حلقے عوام کے غیض کے سامنے زین العابدین علی کے محفوظ اقتدار کے خاتمے کو یاسمین انقلاب کا نام دے رہے ہیں۔ یہ چیک جمہوریہ کے ویلوٹ انقلاب اور یوکرائن کے اورنج انقلاب کا تسلسل خیال کیا گیا ہے۔

NO FLASH Unruhe Tunis Tunesien

سڑکوں کے نگران، تیونس کے ڈنڈا بردار نوجوان

اتوار کو وزیر اعظم محمد الغنوشی نے ایک بار پھر لاء اینڈ آرڈر توڑنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے اپنے سابقہ اعلان کو دہرایا ہے۔ الغنوشی نے بھی پیر کو نئی عبوری حکومت کے قیام کا عندیہ دیا ہے۔ نئی عبوری حکومت کے قیام کے حوالے سے وزیر اعظم نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ معزول صدر کے دور میں کالعدم قرار دی جانے والی دو سیاسی جماعتوں کمیونسٹ پارٹی اور اسلامی النہضہ پارٹی کو عبوری حکومت کی بات چیت میں شامل نہیں کیا گیا۔ ادھر النہضہ کے جلاوطن لیڈر رشید الغنوشی نے لندن سے جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ وہ واپس اپنے ملک جانے کا پلان بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب مرکزی اپوزیشن جماعت پروگریسو ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پیر کو ایک فعال عبوری حکومت کا اعلان کردیا جائے گا۔ اس مناسبت سے PDP کی خاتون سربراہ میة الجریبی کا واضح طور پر کہنا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس پر اتفاق ہے کہ ملک چھوڑ کر فرار ہونے والے صدر کی حامی سیاسی جماعتوں کو نئی عبوری حکومت کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس تازہ صورت حال کی روشنی میں وزیر اعظم اور قائم مقام صدر فواد المبزع کا مستقبل کیا ہو گا یہ تاحال واضح نہیں ہے۔

Tunesien Massendemonstrationen gegen Präsident Zine El Abidine Ben Ali in Tunis Flash-Galerie

زین العابدین بن علی کی حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے کے شرکاء

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے تیونس کے وزیر اعظم اور عبوری صدر کے اس بیان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ تیونس ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ کلنٹن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں صحیح نمائندہ حکومت کا قیام عمل میں آ جائے گا۔ امریکی وزارت خارجہ نے تیونس میں اپنے سفارت خانے کے عملے کے خاندان کی واپس امریکہ منتقلی کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں مقیم امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صورت حال پر نگاہ رکھیں اور کشیدگی اور تناؤ میں اضافے کی صورت میں وہ فوراً تیونس کو چھوڑ دیں۔

تیونس کے انتہائی مضبوط سابق صدر زین العابدین بن علی کے عوامی مظاہروں کے باعث زوال پر عرب دنیا میں اندرون خانہ ہلچل محسوس کی جا رہی ہے۔ مصری وزیر خارجہ احمد ابو الغیط نے عرب دنیا میں تیونس کی صورت حال کے حوالے سے کسی بھی انقلابی صورت حال کو لغو قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق وہ یورپی پریس فوٹوگرافر ابھی زندہ ہے جس کی رحلت کی پہلے خبر جاری کردی گئی تھی۔ بتیس سالہ یہ فوٹو گرافر Lucas Mebrouk Dolega پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا شیل لگنے سے شدید زخمی ہوا تھا۔ اب اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اس کا تعلق EPA ایجنسی سے ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس