1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس: اسلام پسند النہضہ کی فتح، غیر سرکاری نتائج

غیر سرکاری نتائج کے مطابق تیونس کی معتدل اسلامی جماعت النہضہ کو عام انتخابات میں چالیس فیصد نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔ حکومت سازی کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

default

النہضہ کے حامی فتح کا نشان بناتے ہوئے

تیونس میں معتدل اسلام پسند النہضہ جماعت کو آئین ساز اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ان انتخابات میں النہضہ کو چالیس فیصد نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔

امسالہ جنوری میں سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکوت کے خلاف چلنے والے عوامی مظاہروں اور ان کے نتیجے میں ملک میں آمریت کے طویل دور کے خاتمے کے بعد یہ پہلے انتخابات تھے اور ان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا تھا۔

اسلام پسند النہضہ کی کامیابی کے باوجود اس کو ان انتخابات میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے، جس کا مطلب ہے کہ النہضہ کو دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑے گی۔ حکومت سازی کے لیے النہضہ اور دیگر جماعتوں کے درمیان رابطے شروع ہو گئے ہیں۔

النہضہ کی تیونس میں اس کامیابی کو عرب ممالک میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ سن دو ہزار گیارہ عرب ممالک میں ’عرب اسپرنگ‘ کا سال ثابت ہوا ہے، جہاں کئی ممالک میں مطلق العنان حکمرانوں کے تختے الٹے جا چکے ہیں۔

النہضہ کے رکن عبدالحامد جیلاسی کا کہنا ہے، ’’ہم کسی جماعت، شخصیت یا تحریک کو حکومت سازی کے عمل سے باہر نہیں رکھیں گے۔ تیونس میں ماضی میں سیاسی قوتوں کو حکومت سے دور رکھا جاتا تھا لیکن اس بار ہم قومی اتحاد کی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ یہ نئی اسمبلی ایک عبوری حکومت کو نامزد کرے گی، جو کہ ایک برس ملکی آئین کی تیاری کے لیے صرف کرے گی۔ اس کے بعد ملکی پارلیمان اور مکمل حکومت کی تشکیل کے لیے انتخابات کروائے جائیں گے۔

النہضہ کا کہنا ہے کہ وہ تیونس کی قانون سازی کے لیے شریعت سے استفادہ کرے گی تاہم ملک کی ترقی پسند اقتدار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی مذہب کے ماننے والے سے امتیازی سلوک روا رکھا جائے گا۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM