1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیونس: اسلام پسندوں کا انتخابات میں فتح کا دعویٰ

تیونس میں ہونے والے عام انتخابات میں اسلام پسند جماعت النہضہ نے اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری نتائج آج منگل کے روز جاری کیے جائیں گے۔

default

رواں برس کے آغاز میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف چلنے والی تحریک اور ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد تیونس میں ہونے والے یہ پہلے عام انتخابات تھے۔ اسی واسطے ان انتخابات کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا تھا۔ اسلام پسند جماعت النہضہ کی ان انتخابات میں فتح کے دعوے کی ملکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کردہ نتائج سے بھی تصدیق ہوتی ہے، جو کہ اس بات کا واضح اشارہ دے رہے ہیں کہ تیونس کی آئین ساز اسمبلی میں اسلام پسند ایک بھرپور قوت بن کر ابھریں گے۔

سکیولر جماعت پی ڈی پی کی رہنما مایہ جریبی نے اپنی شکست تسلیم کی ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’’رجحان واضح ہے۔ پی ڈی پی کے نتائج اچھے نہیں ہیں۔ یہ تیونس کے عوام کا فیصلہ ہے۔ میں ان کی پسند کے سامنے سر نگوں ہوں۔‘‘

دوسری جانب تیونس کی دو بائیں بازو کی جماعتیں دوسری پوزیشن کے لیے پر امید ہیں۔ ان کو امید ہے کہ وہ پندرہ فیصد ووٹ حاصل کر پائیں گی۔

تیونس میں اتوار کے روز ووٹنگ ہوئی، جس میں ووٹنگ کا حق رکھنے والے افراد میں سے نوے فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابات میں کامیابی کی دعویدار النہضہ جماعت کے رکن سمیر دلاؤ کا کہنا تھا، ’’ہم چالیس فیصد ووٹ حاصل کرنے سے دور نہیں۔ اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے تاہم ہمیں یقین ہے کہ ہم ستائیس میں سے چوبیس ووٹنگ اضلاع میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔‘‘

امریکی صدر باراک اوباما اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے تیونس کے انتخابات کو ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی ان انتخابات کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے اسلام پسندوں کی کامیابی کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM