1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تین ہزار سال بعد پہلی مرتبہ ایک شخص کو حنوط کر دیا گیا

تین ہزار برس بعد ایک برطانوی شہری ایسا پہلا فرد بن گیا ہے، جسے موت کے بعد حنوط کیا گیا ہے۔ اس شخص کو وہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے حنوط کیا گیا ہے، جو فراعین مصر کو حنوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

default

61 سالہ ٹیکسی ڈرائیور ایلن بِلِس Alan Billis رواں برس جنوری میں پھپھڑوں کے کینسر کے باعث لندن میں انتقال کر گئے تھے۔ مرنے سے قبل انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا تھا کہ مرنے کے بعد ان کے جسم کو حنوط کرنے کے تجربے میں استعمال کیا جائے۔ حنوط کرنے کا یہ تجرباتی عمل ایک ٹیلی وژن کے لیے کیا گیا۔

بِلِس نے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کرتے ہوئے اس مقصد کے لیے بنائی گئی دستاویزی فلم میں کہا تھا: ’’لوگ سائنسی تجربات کے لیے کئی عشروں سے اپنے جسموں کو پیش کرتے رہے ہیں۔ اگر لوگ ایسا نہ کریں تو سائنسی اعتبار سے کچھ بھی نیا دریافت نہیں ہوسکتا۔‘‘ یہ دستاویزی فلم 24 اکتوبر کو برطانیہ میں پیش کی جائے گی۔

سب سے بہتر طور پر محفوظ شدہ ممیاں اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہی میں توتنخامون Tutankhamun کی ممی بھی ہے جس کی موت 1323 قبل مسیح میں ہوئی

سب سے بہتر طور پر محفوظ شدہ ممیاں اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہی میں توتنخامون Tutankhamun کی ممی بھی ہے جس کی موت 1323 قبل مسیح میں ہوئی

اس تجربے کی کامیابی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بِلِس کا کہنا تھا: ’’ اگر یہ کامیاب نہیں بھی ہوگا، تو اس سے دنیا ختم تھوڑی ہو جائے گی؟ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، مجھے تو اس سب کا احساس نہیں ہوگا۔ مگر یہ سب ہے بہت دلچسپ۔‘‘

برطانیہ کے چینل فور ٹیلی وژن کے مطابق پروفیسر پیٹر وینیزس Peter Vanezis کی سربراہی میں فورینزک پیتھالوجسٹس کی ایک معروف ٹیم نے بِلِس کے بدن سے دل اور دماغ کے علاوہ باقی تمام اندرونی اعضاء نکال کر اس کے جسم کو مخصوص نمکیات میں ایک ماہ تک رہنے دیا۔ بعد ازاں اس کے جسم کو خشک کرنے کے لیے شمالی انگلینڈ میں واقع شیفلڈز میڈیکولیگل سنٹر میں موجود ایک خصوصی چیمبر میں رکھا گیا۔ اس کے بعد اس کے مردہ جسم کو لینن کی پٹیوں میں لپیٹ دیا گیا، تاکہ سوکھنے کا عمل تو جاری رہے مگر اس کے جسم کے حصے روشنی اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہیں۔

حنوط کرنے کا یہ عمل یارک یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو اور کیمسٹ ڈاکٹر اسٹیفن بَکلے Dr Stephen Buckley کا تشکیل کردہ ہے۔ ڈاکٹر بکلے نے یہ طریقہ قدیم حنوط شدہ اجسام یا ممیوں پر 20 برس تک تجربات کے بعد تیار کیا ہے۔

ڈاکٹر اسٹیفن بَکلے کا تشکیل کردہ ہے۔ ڈاکٹر بکلے نے یہ طریقہ قدیم حنوط شدہ اجسام یا ممیوں پر 20 برس تک تجربات کے بعد تیار کیا ہے

ڈاکٹر اسٹیفن بَکلے کا تشکیل کردہ ہے۔ ڈاکٹر بکلے نے یہ طریقہ قدیم حنوط شدہ اجسام یا ممیوں پر 20 برس تک تجربات کے بعد تیار کیا ہے

ڈاکٹر بکلے کی تحقیق خاص طور پر مصر کے اٹھارویں شاہی خاندان کے دور پر تھی۔ سب سے بہتر طور پر محفوظ شدہ ممیاں اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہی میں توتنخامون Tutankhamun کی ممی بھی ہے جس کی موت 1323 قبل مسیح میں ہوئی۔

بَکلے کی دریافتوں میں یہ اہم بات بھی شامل ہے کہ عام یقین کے برعکس حنوط شدہ لاشوں کا دماغ نہیں نکالا جاتا تھا۔ محققین کا پہلے یہ خیال تھا کہ حنوط کرنے کے عمل کے لیے مردہ جسم کا دماغ اس کے ناک کے ذریعے نکال لیا جاتا تھا۔

بِلِس کے جسم کو حنوط کرنے کے عمل میں تین ماہ لگے۔ حنوط کرنے کے اس عمل کی کئی معروف سائنسدانوں نے تعریف کی ہے، کیونکہ بِلِس کی جلد بالکل درست حالت میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ حنوط کرنے کا یہ عمل کامیاب طریقے سے تکمیل کو پہنچا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس