تین کو سزائے موت اور تین کو عمر قید | حالات حاضرہ | DW | 30.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تین کو سزائے موت اور تین کو عمر قید

بھارت میں ایک عدالت نے اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے ایک مقدمے میں تین افراد کو سزائے موت سنا دی ہے۔ ان افراد نے ایک طالبہ کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آبروریزی کے بعد قتل کے اس مقدمے میں کل چھ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے ان میں سے تین کو موت جبکہ بقیہ تین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ کی عدالت نے جمعرات کو ان افراد کو مجرم ٹھہرایا تھا۔ 2013ء جون میں یہ طالبہ اس وقت ان افراد کی جنسی ہوس کی بھینٹ چڑھی تھی، جب وہ امتحان دے کر اپنے گھر کے راستے میں تھی۔ تاہم قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس لڑکی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی کا تعلق کولکتہ سے شمال مغرب میں پچاس کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک گاؤں سے تھا۔ آبروریزی کرنے کے بعد ان افراد نے لڑکی کا گلا گھونٹ کر خون میں لت پت اس کی لاش کو قریبی کھیت میں پھینک دیا تھا۔ شواہد کے مطابق اس لڑکی کو بار بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے ابتدائی تفیتش کے بعد کل آٹھ افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم ثبوت نہ ہونے کے باعث دو کو رہا کر دیا گیا تھا۔

سنیئر وکیل استغاثہ انندیا راوٹ نے کہا ،’’یہ انتہائی لرزہ خیز واردات تھی ایسے واقعات شاذو نادر ہی رونما ہوتے ہیں‘‘۔ آج ہفتے کے روز جج سنچیتا سرکار نے مجرموں کے اہل خانہ کی موجودگی میں عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ جج نے کہا ’’ ایک طالبہ کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور پھر اسے قتل کرنے کے جرم میں تین افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے جبکہ بقیہ تین کو عصمت دری، مجرمانہ سازش اور ثبوت ضائع کرنے کے جرم میں عمر بھر جیل میں رہنا پڑے گا‘‘۔ اس موقع پر عدالت کے باہر سلامتی کے کڑے اقدامات کیے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد ریاست مغربی بنگال میں شہری اور خواتین کے حقوق تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ اس واقعے سے چند ماہ قبل یعنی دسمبر 2012ء میں نئی دہلی میں ایک طالبہ کو چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے پر بھارت بھر میں شدید مظاہرے ہوئے تھے۔