1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

تین چوتھائی یورپی باشندوں کی ہمدردیاں شامی مہاجرین کے ساتھ

ایک حالیہ سروے کے مطابق تین چوتھائی یورپی باشندوں کی ہمدردیاں ان کے ممالک کا رخ کرنے والے شامی پناہ گزینوں کے ساتھ ہیں۔ یہ اعداد وشمار ان اطلاعات کے لیے چیلنج ہیں جن کے مطابق یورپ میں مہاجر مخالف جذبات میں اضافہ ہؤا ہے۔

21.08.2015 DW Themenwoche Themenbild EU Europa Flagge

یہ سروے یورپی یونین کے کئی ایک ممالک میں مہاجرت مخالف سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے تناظر میں کیا گیا تھا

شامی مہاجرین سے ہمدردی رکھنے والے یورپی ممالک کی فہرست میں آئر لینڈ سر فہرست ہے۔ جہاں ستاسی فیصد افراد شامی تارکین وطن کے حامی ہیں جبکہ اس فہرست میں سب سے آخری نمبر سلوواکیہ کا ہے۔ برطانیہ اور آئر لینڈ میں قائم سماجی اور بزنس تحقیقاتی کمپنی ’ آئی پی ایس او ایس موری ‘ کا یہ سروے بارہ یورپی ممالک کے قریب بارہ ہزار افراد کی آراء پر مشتمل تھا جن میں ایک تہائی سے بھی کم کا یہ ماننا تھا کہ مہاجرین ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

سروے میں معاونت فراہم کرنے والی بین الاقوامی امدادی کمیٹی آئی آر سی کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا،’’ یہ پول ظاہر کرتا ہے کہ یورپی باشندوں نے ابھی دل نہیں ہارا۔‘‘ یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے مہاجرین کے بد ترین بحران کا سامنا ہے۔ افریقہ مشرقِ وسطی اور دیگر جنگ زدہ اور غربت کے شکار ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن گزشتہ سال یورپ پہنچے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سن دو ہزار پندرہ میں اٹھائیس فیصد شامی مہاجرین یورپ پہنچے۔

Syrien Idlib Flüchtlinge aus Madaja

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سن دو ہزار پندرہ میں یورپ پہنچنے والے مہاجرین میں سے اٹھائیس فیصد شامی باشندے تھے

سروے میں شامل تیس فیصد افراد کا کہنا تھا کہ مہاجرین کے حوالے سے ان کے تین بنیادی تحفظات میں سے ایک سیکیورٹی خدشات ہیں۔ یہ سروے یورپی یونین کے کئی ایک ممالک میں مہاجرت مخالف سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں جرمن ریاست میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا کے انتخابات میں مہاجرین مخالف جماعت اے ایف ڈی کے ہاتھوں چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین ( سی ڈی یو) کی شکست کے بعد میرکل کو نہ صرف مخالفین بلکہ اپنی جماعت کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

میرکل نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اپنی آبائی ریاست میں پارٹی کی شکست کی ’ذمہ دار‘ ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہاجرین کے حوالے سے ان کی پالیسی درست تھی۔ ہالینڈ اور فرانس میں بھی رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں قوم پرست مہاجر مخالف جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈیوڈ ملی بینڈ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پناہ گزینوں کا بحران ایک انسانی المیہ ہے اور اسے سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں۔

DW.COM