1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تین لاکھ یہودیوں کے قتل میں معاونت: نازی مجرم کی سزا برقرار

جرمنی کی ایک وفاقی عدالت نے دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی دور میں تین لاکھ یہودیوں کے قتل میں معاونت پر سزا پانے والے اس وقت پچانوے سالہ مجرم اوسکار گروئننگ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسے سنائی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔

Deutschland Judenstern Rampe KZ Auschwitz (picture-alliance/IMAGNO/Austrian Archives)

آؤشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں کئی برسوں کے دوران مجموعی طور پر ایک ملین سے زائد انسانوں کو قتل کیا گیا تھا

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے پیر اٹھائیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق عشروں پہلے جرمنی پر ہٹلر کے دور حکومت میں آؤشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں ایک محافظ کے فرائض انجام دینے والے مجرم گروئننگ کا اس اپیل میں کہنا تھا کہ وہ آؤشوِٹس کیمپ میں گارڈ کے فرائض انجام دیتے ہوئے کسی یہودی کے قتل میں معاونت کا مرتکب نہیں ہوا تھا اور اسے سنائی گئی سزا اس لیے منسوخ کی جائے کہ ایک ماتحت عدالت نے اسے ’قتل میں معاونت‘ کا مجرم قرار دے دیا تھا۔

شمالی جرمن شہر لِیُونے بُرگ کی ایک عدالت نے اوسکار گروئننگ کو گ‍زشتہ برس جولائی میں تین لاکھ یہودیوں کے قتل میں معاونت کے جرم میں چار سال کی سزائے قید سنائی تھی۔ تب اس صوبائی عدالت نے یہ سزا اس لیے کم رکھی تھی کہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے اس ضعیف العمر مجرم کی بزرگی کا بھی خیال رکھا تھا، جو اس وقت 94 برس کا تھا۔

اب لیکن وفاقی عدالت انصاف نے اوسکار گروئننگ کی اس کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل یہ کہہ کر مسترد کر دی ہے کہ ایک صوبائی عدالت کی طرف سے گروئننگ کو 2015ء میں سنائی گئی سزائے قید بجا ہے۔ تب صوبائی عدالت کے جج فرانس کومپِش نے کہا تھا، ’’ملزم گروئننگ اس لیے قابل سزا ہے کہ وہ نازیوں کی ’ڈیتھ مشینری‘ کا حصہ رہا ہے۔‘‘ آؤشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں کئی برسوں کے دوران مجموعی طور پر ایک ملین سے زائد انسانوں کو قتل کیا گیا تھا۔

Deutschland Prozess Oskar Gröning in Lüneburg Urteil (Reuters/A. Heimken)

سزا یافتہ نازی مجرم اوسکار گروئننگ جس کی عمر اس وقت پچانوے برس ہے

جرمنی کی وفاقی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں اس مقدمے کے مدعیان کے طور پر آؤشوِٹس کے نازی اذیتی کیمپ میں مارے جانے والے بہت سے یہودیوں کے کئی پسماندگان کی طرف سے دائر کردہ وہ اپیلیں بھی خارج کر دیں، جن میں کہا گیا تھا کہ مجرم گروئننگ کو سنائی گئی سزا کم ہے اور اسے اس کے جرم کی اِس سے کہیں زیادہ سخت سزا سنائی جانا چاہیے تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس بارے میں اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ اوسکار گروئننگ کی سزا برقرار رکھنے کا وفاقی عدالت انصاف کا فیصلہ اس لیے بہت اہم ہے کہ یہ عدالتی حکم جرمن پراسیکیوٹرز کی ان کوششوں کی قانونی توثیق کرتا ہے، جو وہ برس ہا برس تک ان نازی مجرموں کو سزائیں دلوانے کے لیے کرتے رہے ہیں، جو نازی دور میں ان کئی مختلف اذیتی کیمپوں میں فرائض انجام دیتے رہے تھے، جن میں مجموعی طور پر کئی ملین انسانوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان قیدیوں میں سے اکثریت یہودیوں، ہم جنس پرستوں اور یورپی خانہ بدوشوں کے روما اور سنتی قبیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات