1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

تین عشروں میں ایران کی آبادی دوگنا

ایران ایشیا کا ایک ایسا ملک ہے، جس کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور گزشتہ 31 برسوں میں یہ آبادی دوگنا سے بھی زیادہ ہو کر اب تقریباﹰ 75 ملین ہوگئی ہے۔

default

آج صرف تہران کی آبادی ساڑھے بارہ ملین ہو چکی ہے

تہران میں ایرانی محکمہء شماریات کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 1.5 فیصد رہی۔ اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کی مجموعی آبادی 74.7 ملین ہے لیکن صرف چار سال پہلے تک یہ تعداد 70.4 ملین بنتی تھی۔

Iran U-Bahn Teheran

تہران کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد زیر زمین ریلوے سسٹم کے ذریعے سفر کرتی ہے

ایرانی محکمہء شماریات کےسربراہ عادل اظہر کےمطابق اس ملک کا سب سے بڑا شہر دارالحکومت تہران ہے، جس کی مجموعی آبادی 12.5 ملین بنتی ہے۔ ایرانی خبررساں ادارے مہر نے عادل اظہر کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو بتایا کہ ایران میں ایک عام خاندان کی ماہانہ آمدنی تقریباﹰ 740 امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے جبکہ ایک اوسط خاندان کا ماہانہ خرچ 820 امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

ان تازہ اعداد و شمار سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے آبادی دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جبکہ اس دوران گزشتہ تقریباﹰ تین عشروں کے دوران تہران کی آبادی بھی 200 فیصد سے زائد کے اضافے کے ساتھ تین گنا ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ 1980سے لے کر 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ کے دوران ملک کے مغرب اور جنوب مغرب میں سرحدی علاقوں میں جو وسیع تر تباہی دیکھنے میں آئی، اس کے باعث سرحدی علاقوں سے تہران کی طرف شہریوں کی نقل مکانی میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جو گزشتہ 31 برسوں میں تہران کی شہری آبادی کے تین گنا سے بھی زیادہ ہو جانے کا سبب بنی۔

ایرانی محکمہء شماریات کے مطابق وسیع تر بےروزگاری، رہائشی سہولیات کا فقدان اور بےتحاشا ٹریفک مسائل وہ تین سب سے بڑے منفی حقائق ہیں، جن کا تہران کی شہری آبادی کو سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس