تین صحافیوں کی رہائی: ’القاعدہ نے گیارہ ملین ڈالر تاوان لیا‘ | حالات حاضرہ | DW | 16.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تین صحافیوں کی رہائی: ’القاعدہ نے گیارہ ملین ڈالر تاوان لیا‘

شام میں القاعدہ کے جہادیوں نے تین ہسپانوی صحافیوں کی حالیہ رہائی کے بدلے مبینہ طور پر گیارہ ملین امریکی ڈالر تاوان وصول کیا۔ اس تاوان کی ادائیگی سے متعلق تفصیلات ترکی کے ایک حکومت نواز اخبار نے شائع کی ہیں۔

شام میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے جنگجوؤں کی طرف سے اغوا کردہ تین ہسپانوی صحافیوں کی حالیہ رہائی کے بدلے اس عسکریت پسند تنظیم کے شدت پسندوں نے گیارہ ملین امریکی ڈالر سے زائد کا تاوان وصول کیا۔

ترکی کے شہر استنبول سے پیر سولہ مئی کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق القاعدہ کے عسکریت پسندوں کو اس تاوان کی ادائیگی سے متعلق تفصیلات ترکی کے ایک حکومت نواز اخبار نے اپنی آج کی اشاعت میں شائع کیں۔

بعد ازاں روزنامہ Yeni Safak کی یہی رپورٹ ترک حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دی، جس سے اس بارے میں اطلاعات کے قابل یقین ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں القاعدہ کے شدت پسندوں نے جن تین ہسپانوی صحافیوں کو اغوا کر رکھا تھا، ان میں سے ہر مغوی یورپی باشندے کی رہائی کے لیے 3.7 ملین امریکی ڈالر کے برابر تاوان ادا کیا گیا۔

اس طرح تاوان کے طور پر ادا کی گئی یہ رقم مجموعی طور پر 11 ملین ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ انہی یورپی صحافیوں کی رہائی کے سلسلے میں شام میں اندرونی طور پر بےگھر ہو جانے والے شہریوں کے لیے قائم کیمپوں کی خاطر بھی اضافی رقوم مہیا کی گئیں۔

اس ترک جریدے نے لکھا ہے کہ شام میں النصرہ فرنٹ کہلانے والے القاعدہ کے مقامی بازو کے ساتھ ترک حکومت نے براہ راست کوئی مذاکرات نہیں کیے تھے لیکن اس سلسلے میں اسپین نے ترکی اور خلیجی عرب ریاست قطر سے یہ درخواست بہرحال کی تھی کہ یہ دونوں ممالک یرغمالی ہسپانوی صحافیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں میڈرڈ حکومت کی مدد کریں۔

Syrien Spanische Journalisten werden vermisst

انٹونیو پامپلی ایگا، خوزے مانوئل لوپیز اور آنجَیل ساستر نامی یہ تینوں صحافی اپنے رہائی کے بعد اسی مہینے کے اوائل میں واپس اسپین پہنچے تھے

اخبار کے مطابق انٹونیو پامپلی ایگا، خوزے مانوئل لوپیز اور آنجَیل ساستر نامی یہ تینوں صحافی اپنے رہائی کے بعد اسی مہینے کے اوائل میں واپس اسپین پہنچے تھے اور ان کی النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں کے قبضے سے بحفاظت رہائی کے بعد میڈرڈ حکومت نے ترکی اور قطر کی حکومتوں کی طرف سے مدد پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

اسپین کے یہ تینوں صحافی ترکی سے شام میں داخلے کے بعد جولائی 2015ء میں شامی باغیوں کے زیر قبضہ شہر حلب میں اچانک لاپتہ ہو گئے تھے۔ ترکی شامی تنازعے میں صدر بشار الاسد کی حکومت کا بہت بڑا ناقد اور حکومتی دستوں کے خلاف لڑنے والے اپوزیشن باغیوں کا بہت کٹر حامی ہے۔

DW.COM