1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تین برس میں بے گھر ہونے والے افغانوں کی تعداد دگنی

گزشتہ تین برسوں کے دوران داخلی طور پر بے گھر ہونے والے افغانوں کی تعداد دگنی ہو کر 1.2 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

آج منگل 31 مئی کو ایمنسٹی کی طرف سے متنبہ کیا گیا کہ بنیادی انسانی ضروریات کی عدم دستیابی کے باعث یہ لوگ بقاء کے خطرات سے دوچار ہیں۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم کے مطابق بے گھر ہونے والے افغانوں کی صورتحال حالیہ چند برسوں کے دوران خراب ہوئی ہے، جس کی وجہ عالمی امدادی اداروں کی توجہ اور امدادی رقوم کا دیگر بحران زدہ علاقوں کی طرف منتقل ہونا بتائی گئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے ڈائریکٹر چمپا پٹیل کے مطابق، ’’چونکہ دنیا کی توجہ افغانستان سے ہٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے، اس لیے ہمیں تنازعے سے متاثر ہونے والوں کی صورتحال کے نظر انداز کر دیے جانے کا خطرہ ہے۔‘‘ ان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’تحفظ کی تلاش میں اپنے گھر بار چھوڑنے کے باوجود بھی افغانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے اپنے ہی ملک میں حالات بد تر ہو رہے ہیں اور وہ اپنی بقاء کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس کے خاتمے کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آ رہی۔‘‘

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق 2014ء کے اختتام پر افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد سے بغاوت مسلسل بڑھ رہی ہے اور 2001ء میں امریکی سربراہی میں بین الاقوامی فورسز کی طرف سے طالبان کو حکومت سے بے دخل کیے جانے کے بعد سے اب وہ مضبوط ترین پوزیشن میں ہیں۔ طالبان کی طرف سے موسم بہار کے سالانہ حملوں کا آغاز گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، جن کا مقصد مغربی دنیا کی حمایت یافتہ حکومت کو کابل سے نکال کر اپنی حکومت قائم کرنا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق بے گھر ہونے والے افغانوں کے پاس سر چھپانے کی مناسب جگہ، خوراک، پانی اور صحت سے متعلق سہولیات کے فقدان کے علاوہ انہیں بے روزگاری کا بھی سامنا ہے اور نہ ہی ان کے بچے تعلیم تک رسائی رکھتے ہیں۔

افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں پناہ گزین ایک ایسی ہی افغان خاتون نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہاں تو ایک جانور بھی اس طرح کی جھونپڑی میں نہیں رہے گا، مگر ہمیں رہنا پڑ رہا ہے۔‘‘ اس خاتون کا مزید کہنا تھا، ’’میں اس جگہ رہنے کے بجائے جیل میں رہنے کو ترجیح دوں گی۔ کم از کم جیل میں مجھے خوراک اور چھت کی فکر تو نہیں ہو گی۔‘‘

ایمنسٹی کے مطابق خوراک کی کمیابی کے باعث بعض لوگ دن میں محض ایک وقت کھانا کھانے پر مجبور ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اس گروپ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری اور افغان حکومت کو لازمی طور پر ان بے گھر ہونے والے افغان شہریوں کی ضروریات کو دیکھنا چاہیے، ’اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے‘۔