1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل کے کنویں پر تنازعہ ختم

ایران اور عراق کے درمیان تیل کے کنویں پر پیدا شدہ اختلاف پر امن طو رپر ختم ہوگئے ہیں۔ ایران کی سرحد کے قریب واقع عراقی علاقے میں تیل کے ایک کنویں پرگزشتہ ہفتے ایرانی فورسز نے قبضہ کرلیا تھا۔

default

دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں بھی تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں۔ عراقی حکام کے مطابق مقبوضہ تیل کے کنویں کے پاس سے ایرانی پرچم اتار لیا گیا ہے اور ایرانی فورس کے اہلکار اس مقام سے پچاس میٹر پیچھے چلے گئے ہیں۔ عراق کے جنوبی صوبے فاکا میں واقع تیل کے کنویں نمبر چار پر بغداد اور تہران دونوں کا ملکیت کا دعویٰ ہے۔ عراقی حکام کے مطابق، فاکا صوبے میں قائم سات میں سے اس ایک کنویں کی روزانہ کی پیداوار دس ہزار بیرل ہے۔

عراقی حکومت کے ترجمان علی ال دباغ نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ یہ علاقہ متنازعہ نہیں، دونوں ممالک کا نقشے پر اتفاق ہوچکا ہے اب محض زمین پر نشان لگانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایرانی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے واپس ایرانی حدود میں چلی جائے۔ انہوں نے تہران پر واضح کیا کہ بغداد اس قسم کی دراندازی کو برداشت نہیں کرے گا، ایرانی فورسز کو فی الفور واپس اپنی حدود میں چلے جانا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کی مشترکہ کمیٹی سرحدوں کی حد بندی سے متعلق نشان لگانے کا کام کرسکے۔

ادہر امریکہ نے ایران کی جانب سے مبینہ طور پر خطے کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چئیرمین ایڈمر مائیکل ملن نے تنازعے کے حل کے لئے ایران اور عراق کی سیاسی قیادت پر زور دیا ہے۔

Bildgalerie Iran Irak Krieg 1980 bis 1988

انیس سو اسی میں ایرانی سرحد کے قریب پوزیشن سنبھالے ہوے عراقی فوجی۔ فائل فوٹو۔

ایرانی سرحدی حکام البتہ اس مقام کو متنازعہ خطہ قرار دے رہے ہیں۔ تہران حکومت کے مطابق ایرانی فورسز واپس اپنی اصل پوزیشن پر واپس آگئی ہیں۔ ایران نے الزام عائد کیا کہ مغربی میڈیا ایران اور عراق کے درمیان تعلقات بگاڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ بغداد میں ایرانی سفارتخانے کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑا۔ یاد رہے کہ طویل عرصے تک بدامنی اور شورش کے بعد پہلی بار عراقی حکومت نے گزشتہ دنوں تیل کی متعدد بین الاقوامی کمپنیوں سے بڑے سودے کئے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، حالیہ تنازعے سے ان سودوں پر منفی اثرات بھی پڑ سکتے ہیں جن پر ابھی حتمی دستخط نہیں ہوئے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات کی تاریخ خاصی پرانی ہے۔ تیل کے کنویں سے ایرانی پرچم اتارکر عراقی پرچم لہرادیا گیا۔

رپورٹ : شادی خان

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM