1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تیل کی مانگ میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ 40 سے 50 سال تک دنیا سے خام تیل ختم ہونے والا ہے اور ہمیں توانائی کے نئے ذخائر تلاش کرنا ہوں گے۔ ابھی دنیا میں تیار ہونے والی 90 فیصد اشیاء کا انحصار بالواسطہ یا بلا واسطہ تیل پر ہے۔

default

دنیا میں تیل کی مانگ روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف ایران، روس، میکسیکو،وینزویلا اور امریکہ میں تیل کی شرح پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔ ماہرین ارضیات کو یقین ہے کہ انسان زمین سے آخری حدوں تک خام تیل نکال چکا ہےاوراب زمین میں تیل کے کچھ زیادہ ذخائر باقی نہیں رہے۔ بین الااقوامی ایجنسی برائے توانائی IEA نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں تیل کا نیا بحران پیدا ہو سکتا ہے اور یہ بحران آج کل کے معاشی بحران سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگا۔ IEA کے سرکردہ ماہر اقتصادیات فتیح بیرول کا کہنا ہے۔ " تیل کی پیداوار میں نظر آنے والی موجودہ کمی کو پورا کرنےکے لئے ہمیں سعودی عرب جیسے 4 نئے ملکوں کی ضرورت ہو گی"۔

تاہم دوسری طرف بیرول کا کہنا یہ بھی ہے کہ خام تیل کے نئے اور بڑے ذخائر کا ملنا ناممکن ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔"ہمیں تیل کا استعمال چھوڑنا ہو گا، اس سے پہلے کہ تیل ہمیں چھوڑ دے۔

Shell USA floating oil platform, photo on black Ölplattform

خام تیل کے نئے اور بڑے ذخائر کا ملنا ناممکن ہے۔

تیل کی مجموعی پیداوار کا 70 فیصد حصہ ذرائع آمدورفت مثلا کاروں، بسوں اور ہوائی جہازوں وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ہم تیل کی بچت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آئندہ سفر کم کرنا ہو گا، پھل اور سبزیاں مقامی سطح پر پیدا کرنا ہوں گی اور بڑھتی ہوئی برآمدات اور درآمدات میں کمی لانا ہوگی۔ اگر دنیا سے تیل کم ہوتا ہے تو زرعی شعبے میں ہی اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ جرمنی کے ایک کسان کہتے ہیں: ’’اگر ایسا ہوا تو ہم اُتنی مقدار میں اَشیائے خوراک پیدا نہیں کر سکیں گے، جتنی کہ ہم اِس وقت کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں امید کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو پھر سو طرح کے اخلاقی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ محاورہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کھانا پہلے آتا ہے اور اخلاقیات بعد میں۔‘‘

خود جرمنی میں بھی محدود مقدار میں تیل پیدا کیا جاتا ہے۔ تاہم دیگر ملکوں کی طرح یہاں بھی ساٹھ کے عشرے سے تیل کی مقدار مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ جرمنی میں تیل کے ایسے کئی کنویں ہیں، جہاں سے برآمد ہونے والے تیل میں پانی کی مقداراٹھانوے فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ایسے میں توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش ناگزیر ہو چکی ہے۔

امتیاز احمد / امجد علی