1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے والی ہیں

سعودی عرب اور روس نے تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان دونوں کا شمار تیل برآمد کرنے والے چوٹی کے ممالک میں ہوتا ہے۔ اس اتفاق رائے کا مقصد تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو سہارا دینا ہے۔

ابھی حال ہی میں تیل برآمد کرنے والے چار بڑے ممالک سعودی عرب، روس، قطر اور وینیزویلا کے نمائندوں نے دوہا میں ملاقات کی تھی۔ اس اجلاس کے بارے میں تفصیلات عام نہیں کی گئی تھیں۔ تاہم اس کے بعد ان چاروں ممالک کے وزرائے تیل نے ایک ایسی تجویز پیش کی ہے، جس پر عمل پیرا ہونے سے خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو سہارا دیا جا سکے گا۔ تاہم یہ تجویز تہران کی رضامندی کے بغیر ہی پیش کی گئی ہے کیونکہ دوہا اجلاس میں ایران موجود نہیں تھا۔

سعودی عرب کے وزیر تیل علی النعیمی نے کہا کہ پیداوار کو جنوری والے لیول پر ہی منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ’’یہ ایک قابل عمل منصوبہ ہے اور امید ہے کہ تیل درآمد کرنے والے دیگر ممالک بھی اس کی تائید کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد بالکل واضح ہے ۔’’یہ ایک ایسے عمل کی ابتدا ہے، جس میں ہم اگلے مہینوں کے دوران جائزہ لیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ ضرورت پڑنے پر تیل کی عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔‘‘

Yukos Ölförderung in Sibirien

ہمارے تیل کے کنویں مختلف ہیں، روس

دوہا میں ہونے والی اس خفیہ ملاقات کی خبر کے ساتھ ہی تیل کی قیمت 35,55 ڈالر تک پہنچ گئی تھی تاہم بعد میں تیل کا کاروبار 34 ڈالر فی بیرل میں ہوا۔ اسی طرح وینزویلا کے تیل کے وزیر اوگولیو ڈیل پینو نے دوہا ملاقات کے بعد کہا کہ ایران اور عراق کے ساتھ اس سلسلے میں بدھ کے روز مزید بات چیت کی جائے گی۔

دوہا اجلاس ایک ایسے موقع پر ہوا، جب تیل کی قیمتوں میں گزشتہ انیس ماہ سے مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ 2014ء کے وسط میں خام تیل 115 ڈالر فی بیرل تھا اور ابھی پچھلے دنوں کے دوران اس کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے چلی گئی تھی۔ تاہم اس کے بعد ہی تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے بارے میں ان ممالک نے سوچنا شروع کیا۔

سعودی عرب پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ اسی صورت میں تیل کی پیداوار کو کم کرے گا، جب اوپیک کے رکن ممالک اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔ تیل کی پیداوار کے حوالے سے عالمی نمبر دو روس کے بقول وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ سائبیریا میں اس کے تیل کے کنوؤں اور اوپیک ممالک کے تیل کے کنوؤں میں فرق ہے۔