1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل کی قیمتیں اور سعودی وعدے

سعودی عرب نے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لئے صارف ممالک کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

default

ایندھن کی اونچی قیمت کے عالمی معیشت پر بُرے اثرات کے حوالے سے تشویش کے شکار ملک امریکہ نے سعودی عرب کی اس پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ ہنری پاولسن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام تعمیری اور مثبت ثابت ہو گا اسلئے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ مئی میں اپنے دورہء ریاض کے دوران امریکی صدر جارج بش نے چار ماہ میں دوسری مرتبہ سعودی عرب پر تیل کی پیداوار بڑھانے پر زور دیا تھا۔ جبکہ برطانیہ نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے تیل کی حالیہ قیمتوں کو نامناسب قرار دیا ہے۔ برطانیہ ایک عرصے سے تیل کے پیداواری اور صارف ممالک کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہا تھا۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللّہ کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اس امر پر اتفاقِ رائے ہوا کہ تیل کی قیمت میں حالیہ زبردست اضافہ مارکیٹ کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

دوسری جانب سعودی کابینہ نے وزارتِ تیل کو تیل کے پیداواری اور صارف ممالک اور تیل کی پیداوار، برآمد اور تجارت کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے اجلاس کا بھی انتظام کرنے کی تاکید کی ہے۔ سعودی کابینہ کے مطابق اس میٹنگ سے تیل کی قیمت میں اچانک بے تحاشا اضافے کی وجوہات کا اندازہ لگانے اور ان کا درست سدِّ باب کرنے میں مدد ملے گی۔

سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے تیل کی تمام کمپنیوں اور صارف ممالک کے سامنے طلب کے لحاظ سے تیل کی رسد بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

سعودی کابینہ کا کہنا ہے کہ ایک پیداواری ملک ہونے کی حیثیت سے سعودی عرب یہ جانتا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی مناسب سپلائی موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود بازارِ حصص میں بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی منڈی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابلِ فہم بھی ہیں۔

گزشتہ ماہ سعودی عرب نے غریب ممالک اور ترقی پذیر معیشتوں پر دباو کم کرنے کی غرض سے اپنی تیل کی پیداوار میں تین لاکھ بیرل فی دن اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اضافے کے بعد سعودی عرب کی تیل کی پیداوار نو اعشاریہ پینتالیس میلین بیرل فی دن ہو جائے گی۔