1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل کی طاقت کے آگے عالمی برادری کی زبان بند

شام اور یمن میں فضائی حملوں میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں اور تباہیوں کے باوجود عالمی برادری کی طرف سے خاطر خوا ہ مذمت کے سامنے نہ آنے کی بہت سی وجوہات ہیں، اس بارے میں تجریہ کاروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

شام میں آئے دن ہونے والے فضائی حملوں میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور اسی طرح یمن میں مارچ سے اب تک سعودی اتحاد کے فضائی حملے ہزاروں جانوں کے ضیاع کا سبب بن چُکے ہیں۔ ان سب کے باوجود بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ شور اُس وقت مچتا ہے جب امریکا کی طرف سے افغانستان میں کسی فضائی کارروائی کے نتیجے میں شہری ہلاک ہوتے ہیں۔ اس بارے میں تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ شام اور یمن کا بحران اب عالمی برادری کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے؟

Jemen Zerstörung in Aden Tawahi

یمن کے بیشتر علاقے تباہ ہو چُکے ہیں

شام

حال ہی میں بحران زدہ عرب ریاست شام کے شمال مغربی ضلعے سرمین کے ایک ہسپتال پر گرنے والے پہلے میزائل نے ایک فیزیو تھراپسٹ کی جان لی تھی۔ اس کے پانچ منٹ بعد ہی ایک اور میزائل داغا گیا جس میں 13 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس ہسپتال کے منتظین نے روس پر ان فضائی حملوں کا الزام عائد کیا تھا۔

یمن

یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف مارچ سے جاری سعودی قیادت والے اتحادی فورسز کی فضائی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوچُکی ہیں۔ رواں ہفتے یمن میں ایک بین الاقوامی میڈیکل چیریٹی ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے زیر نگرانی کام کرنے والے ایک ہسپتال پر سعودی اتحادی فورسز نے فضائی حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔ گرچہ اس حملے میں انسانی جان کا کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم یہ حملہ یمن میں مارچ سے اب تک 3000 انسانوں کی ہلاکتوں کا سبب بننے والے سعودی اتحادیوں کے حملوں میں تازہ ترین حملہ تھا۔

Kundus Afghanistan Ärzte ohne Grenzen Krankenhaus US Bombardierung Zerstörung

قندوز میں امریکی فضائی حملے کا نشانہ بننے والا ہسپتال

تنقید

شام ہو یا یمن ان مملک کے ہسپتالوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف عالمی سطح پر بہت کم آواز اُٹھائی گئی۔ اس کے برعکس تین اکتوبر کو افغانستان کے ایک ہسپتال پر امریکی فضائی حملے میں 30 افراد کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن پر سخت تنقید کی گئی۔ عالمی برادری کے اس رویے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عالمی برادری شام میں جاری جنگ، جو اب پانچویں برس میں داخل ہو چُکی ہے، سے بُری طرح نالاں ہیں جبکہ بحران زدہ ملک یمن اپنی غربت اور زبوں حالی کے سبب کئی عشروں سے عالمی برادری میں الگ تھلگ یا تنہا ہو کر رہ گیا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک اور وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے ہسپتال پر امریکی حملے کے بعد فوراً بعد ہی واشنگٹن نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی تھی اور امریکی صدر باراک اوباما نے تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز سے فوری طور سے معافی مانگ لی تھی۔ اُدھر روس اور سعودی عرب شام اور یمن میں اپنی فوری کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں سے مکمل انکار کر تے رہے ہیں۔ ان دونوں ملکوں کی صورتحال بھی اتنی پیچیدہ ہے کے وہاں ہونے والے کسی واقعے کی تصدیق ناممکن ہے۔

DW.COM