1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے گی، لیبیا

لیبیا کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اٹلی کی تیل کمپنی ای این آئی کے ساتھ اپنے معاہدوں پر نظر ثانی کرے گی۔ حکومت نے اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ کمپنی معمر قذافی کی فورسز کے ہاتھوں تباہ ہونے والے شہروں کی تعمیر نو میں حصہ لے۔

default

لیبیا کے وزیر اعظم عبد الرحیم الکیب

جمعے کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق معاہدے پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ بدھ کو اطالوی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر پاؤلو سکارونی اور لیبیا کے وزیر اعظم رحیم الکیب کے درمیان طرابلس میں ہونی والی ایک ملاقات کے دوران کیا گیا۔

وزیر اعظم نے سکارونی سے کہا کہ ای این آئی اور ملک کی سابق حکومت کے درمیان معاہدوں پر عملدرآمد سے قبل لیبیا کے مفادات کے پیش نظر ان پر نظر ثانی کی جائے گی۔

Libyen Öl Produktion Preis

لیبیا میں خام تیل کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے لیے ای این آئی نے اگست میں ملک کی قومی عبوری کونسل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے

رواں ماہ کے اوائل میں سکارونی نے کہا تھا کہ یہ ’ناقابل یقین‘ بات ہے کہ لیبیا کے نئے حکام ان کی کمپنی کے ساتھ معاہدوں کو تبدیل کریں گے۔ ان کے بقول یہ بین الاقوامی معاہدے ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی کی صورت میں بین الاقوامی تصفیہ کرایا جائے گا۔

کمپنی نے اگست میں لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت لیبیا میں خام تیل کی پیداوار دوبارہ شروع کی جانا تھی۔

لیبیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا ملک اب کوئی ایسے معاہدے قبول نہیں کرے گا جو اس سے زبردستی کروائے جائیں۔ انہوں نے کہا، ’’لیبیا کا اب منصوبوں کے انتخاب اور ان کی منظوری کے عمل میں مؤثر کردار ہو گا۔‘‘

Superteaser NO FLASH Großbritannien RAF Eurofighter

سابق حکمران معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کی فوجی کارروائی میں شریک ملکوں کی کمپنیوں کو یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ تیل کے معاہدوں کی از سر نو تقسیم سے انہیں بھی فائدہ پہنچے گا

رحیم الکیب نے مزید کہا کہ لیبیا میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو شمالی افریقہ کے اس ملک کے عوام کے ساتھ اپنی وفاداریاں ثابت کرنا ہوں گی۔ ان کے بیان کے مطابق، ’’لیبیا میں سرگرم غیر ملکی کمپنیوں کو لیبیا کے عوام کو یہ بھی دکھانا ہو گا کہ وہ سابق حکمران قذافی یا اس کی حکومت کی بجائے لیبیا کے ملک کی شراکت دار ہیں۔ ای این آئی کو اس بات کے ثبوت کے لیے قذافی کی فورسز کے ہاتھوں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔‘‘

ملک کے سابق حکمران معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کی فوجی کارروائی میں حصہ لینے والے ملکوں کی کمپنیوں کو یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ تیل کے معاہدوں کی از سر نو تقسیم سے انہیں بھی فائدہ پہنچے گا۔

لیبیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان میں سے بعض کمپنیوں کے پاس انقلاب کے بعد لیبیا کے عوام کی مدد کرنے کا موقع تھا مگر انہوں نے وہ گنوا دیا۔

اطالوی کمپنی ای این آئی 1959 سے لیبیا میں موجود ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM