1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل پر قبضے کے نئے منصوبے؟

عراقی وزیرِ خارجہ ہوشیار زیباری کے مطابق واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ایک لمبے عرصے کے لئے سکیورٹی معاہدے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

default

امریکہ اورعراق کے درمیان اس اتفاقِ رائے کا اعلان عراقی وزیرِ خارجہ نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

عراقی وزیرِ خارجہ ہوشیار زیباری کے مطابق امریکہ اورعراق کے درمیان ایک ایسے معاہدے کے مسوّدے پر گفتگو جاری ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے مابین مختلف معاملات میں وسیع تر تعاون دیکھنے میں آئےگا۔ بغداد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہوشیار زیباری نے کہا کہ اس معاہدے کا مسودہ تکمیل کے قریب ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان پیچیدہ اورکٹھن مذاکرات تیس جولائی تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں جنم لے رہی تھیں لیکن عراقی حکومت کا مقصد ایک ایسا معاہدہ تھا جس میں عراق کےتشخص کا تحفظ ممکن ہو۔

مبصرین کے مطابق مذکورہ معاہدے کا مقصد عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے لئے اقوامِ متحدہ کی ڈیڈلائن کے بعد عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ گزشتہ برس عراقی وزیرِاعظم نوری الماکی اور امریکی صدر جارج بش کے درمیان سٹیٹس آف فورس ایگریمنٹ نام کے ایک ایسے ہی معاہدے پر دستخط کرنے پر اتفاقِ رائے سامنے آیا تھا لیکن عراقی حزبِ اختلاف کی جانب سے شدید مزاحمت کے باعث مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ عراقی حکام کے مطابق اس معاہدے سے امریکہ کو بہت سے اضافی اختیارات حاصل ہونے کا خدشہ ہے۔

عراقی وزیرِخارجہ کے مطابق مذاکرات میں رُکاوٹ یا معاہدے میں تاخیر کی صورت میں کسی دوسرے دوطرفہ معاہدے کے علاوہ عراق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی رابطہ کر سکتا ہے۔

ہوشیار زیباری کی حال ہی میں واشنگٹن کے دورے سے واپسی ہوئی ہے۔ وطن واپسی کے بعد ایک بیان میں زیباری نے کہا کہ عراق کے پاس اس معاہدے پر دستخط کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

ادھر عراقی اکورڈ فورس نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے ایک برس بعد دوبارہ کابینہ میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ آئی اے ایف کے ترجمان کے مطابق کابینہ میں خالی نشستوں کے لئے امیدواروں کی فہرست عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی کو پیش کی جا چکی ہے۔