1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیل سے مالا مال نائجیریا کے مفلوک الحال عوام

نائجیریا کے تیل سے مالا مال علاقے نائیجر ڈیلٹا کو اگر تشدد اور جنگ کی آماجگاہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ایک ایسا علاقہ جس میں مشکل سے ہی کبھی امن و استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔

default

یہ علاقہ نسلی و قومی تصادم سے لے کر فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان وسیع جنگ اور آئل کمپنیوں میں کام کرنے والے غیرملکیوں کے اغوا تک بے شمار واقعات سے بھرا پڑا ہے۔گزشتہ بدھ کی رات تازہ ترین واقعے میں ، علیحدگی پسندوں نے ایک فوجی چھاﺅنی پر کار بم سے حملہ کیا۔ وسیع پیمانے میں تیل پیدا کرنے والے اس علاقے میں علیحدگی پسندوں کے حملوں کی وجہ سے اب تک تیل کی پیداوار میں ایک چوتھائی حد تک کمی آچکی ہے۔اور دنیا میں تیل کی قیمت میں حالیہ اضافے کی ایک وجہ بھی اس علاقے میں موجود بحران کو ہی قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈوئچے ویلے کے نمائندے ابراہیم سنی Ibrahim Sani نے ابھی حال ہی میں اس علاقے کا دورہ کیا ہے اور وہاں کے حالات کو نزدیک سے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسندوں نے نائیجر ڈیلٹامیں اپنے مطالبات کو آگے بڑھانے کے لئے غیر ملکیوں کو یرغمالی بنانے کا کام شروع کر دیاہے۔عسکریت پسندوں کے مطالبات میں سے ایک علاقے کو مزید ترقی دینا اور ان کے مسلح لیڈروں کو رہا کرنا ہے۔

اگرچہ خود ڈیلٹا کے علاقے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عسکریت پسندوں کو دوسرے گروپوں کی حمایت حاصل ہے لیکن ملک کے دیگر علاقوں میں خاص طور سے انسانی حقوق سے وابستہ ادارے ان کی حمایت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔شمالی نائیجریا کے علاقے کادونا میں Civil Rights Congressسے وابستہ Shehu Saniکا کہنا ہے کہ کیا حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے یرغمالی بنانے کا راستے کو درست قرار دیا جا سکتا ہے؟

انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ایک طویل عرصے سے ڈیلٹا کے لوگوں ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ایک مہذب معاشرے میں بہت سے مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں ہم لوگوں کا دفاع کرنے کے لئے کھڑے ہو سکتے ہیںاور کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں ہم کوئی اقدام نہیں کر سکتے۔مثال کے طو ر پر اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ہم سڑکوں پر آکر مظاہر ہ کر سکتے ہیں لیکن اگر لوگ خود ہی ہتھیار اٹھا لیں اور اپنے خود غرضانہ اہداف تک پہنچے کے لئے دوسروں کو یرغمالی بنانا شروع کر دیں تو ایسی صورت میں حکومت امن قائم کرنے اور نظم و ضبط برقرار کرنے کے لئے ایسے افراد کے خلاف کاروائی کرنے پر مجبور ہو جائے گی

۔جبکہ نائیجر ڈیلٹا کی علیحدگی پسند تحریک MEND ڈیلٹا کے عوام کے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تشدد کے راستے کو جائز قرار دیتی ہے۔ نائیجر ڈیلٹا کے علیحدگی پسند گروپ کا کہنا ہے کہ وہ تیل سے مالا مال اس علاقے کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف احتجا ج کر رہا ہے۔اس علیحدگی پسند تحریک کا کہنا ہے کہ جب سے اس ملک میں جمہوریت بحال ہوئی ہے اس وقت سے اب تک نائیجر ڈیلٹا کے لوگوں کی غربت کو دور کرنے اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا گیا۔

Itsekiri نسلی گروپ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے رہنما David Rejenijoکا کہنا ہے :اگر کوئی شخص اس علاقے میں جا کر خود اپنی آنکھوں سے لوگوں کی صورتحال کو نہیں دیکھتا اس وقت تک وہاں کے لوگوں کی شکایات کو مشکل سے ہی سمجھ سکتا ہے۔وہاں پر حکومت کی موجودگی بالکل نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہے۔بلکہ انسان کو اور زیادہ حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ یہی وہ علاقہ ہے جہاں تیل کی وسیع پیدوار کی وجہ سے حکومت کو کئی بلین ڈالر کی آمدنی ہو رہی ہے لیکن رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ یہ سارا کا سار ا پیسا مقامی لیڈروں کی ذاتی جیب میں چلا جاتا ہے اور اسی سے کسی حد تک اس بات کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے کہ کیوں اس علاقے کے لوگوں کی اکثریت نہایت کسمپرسی کی زندگی گزا ر رہی ہے۔