1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیسرا اور حتمی مباحثہ کیمرون کے نام

برطانوی وزارت عظمیٰ کے امیدوار گورڈن براؤن، ڈیوڈ کیمرون اور نک کلیگ کے مابین تیسرا تاریخی مباحثہ مکمل ہوگیا ہے جس میں کیمرون کو فاتح قرار دیا جارہا ہے۔

default

جمعرات کی شام منعقدہ اس تقریب کا موضوع معیشت تھا۔ برطانوی سیاسی تاریخ میں پہلی بار منعقد ہونے والے اس طرز کے براہ راست مباحثے کی یہ تیسری قسط تھی۔ تینوں مقررین نے اپنے اپنے انداز سے مالیاتی اداروں پر کڑی نظر رکھنے، ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کی پالیسیوں کا احاطہ کیا۔

عوامی جائزوں کے مطابق مستقبل کے متوقع برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے مباحثے کے دوران کہا کہ وہ بینکوں اور مالیاتی اداروں پر نئے محصولات عائد کرکے انہیں اس قابل بنائیں گے وہ دوبارہ عوام کو قرض دینے کے قابل ہوسکیں۔ یونان کے مالیاتی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے برطانوی عوام سے وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی یورو کرنسی رائج نہیں کریں گے اور پاؤنڈ کو ہی برطانیہ کی کرنسی رکھیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ چین سے سامان کی برآمد پر انحصار ختم کرنا ہوگا اور ملک کے اندر پیداوار کو فروغ دیناہوگا۔

Gordon Brown beleidigt Wählerin

برطانوی وزیر اعظم کو اس آخری مباحثے سے ایک روز قبل ایک ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا

برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن جو پچھلے دو مباحثوں میں بھی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا پائے تھے اس مرتبہ بھی ناظرین کو متاثر نہ کرسکے۔ معاشی پالیسیوں سے متعلق حالیہ مباحثے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ لیبر پارٹی کی موجودہ پالیسیوں کے سبب ہی برطانیہ مالیاتی بحران پر قابو پاکر اب آہستہ آہستہ دوبارہ معاشی خوشحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ قدامت پسند کیمرون اور لیبر ڈیموکریٹ کی جانب سے ان کی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کے دوران وعدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں مسکراتے رہے۔ براؤن نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد وہ بینکاروں کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے نہیں دیں گے جو ان کے بقول مالیاتی بحران کی اہم وجہ تھی۔ حکومت کی جانب سے مالیاتی اداروں کو فراہم کی گئی امداد سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک یہ امداد واپس نہیں لی جائے گی جب تک بحران سے مکمل بحالی کا مرحلہ طے نہیں ہوجاتا۔

لیبر اور کنزرویٹو کے مقابلے میں قدرے چھوٹی تصور کی جانے والی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے نک کلیگ اس مرتبہ بھی براؤن سے زیادہ مقبول رہے۔ مباحثے کے دوران بعض مواقع پر ان کی خوداعتمادی اس سطح پر پہنچ گئی کہ انہوں نے براؤن اور کیمرون کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے دوران کہا، ’’ یہ دونوں پھر شروع ہوگئے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ انتھک محنت سے برطانیہ کے اقتصادی نظام میں شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔ کلیگ نے پرعزم انداز میں کہا کہ بینکوں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر تعینات افسران کے لئے بونس بالکل ختم کیا جانا چاہئے۔

برطانیہ کی تین بڑی سیاسی جماعتوں لیبر ، کنزرویٹو اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہان نے کھل کر موجودہ اور مستقبل کی معاشی پالیسیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ برطانیہ میں انتخابات چھ مئی کو منعقد ہورہے ہیں۔

لندن میں جب امریکہ کے طرز پر ان اعلیٰ سطح کے مباحثوں کے انعقاد کی بات کی جارہی تھی تو اسے برطانوی سیاست کی تضحیک اور ’امیریکائزیشن‘ قرار دیا جارہا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت اب برطانیہ میں بھی عیاں ہوتی جارہی ہے۔ امریکہ میں ان مباحثوں کا آغاز 60 19کی دہائی میں جان کینیڈی اور رچرڈ نکسن کے مابین صدارتی انتخاب کے موقع پر ہوا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : ندیم گِل

DW.COM