1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیز رفتار موجوں سے سندھ میں شدید تباہی کا خطرہ

خیبر پختون خوا اور پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد یہ موجیں سندھ کے سینکڑوں دیہاتوں کو ملیہ میٹ کرکے کوٹری بیراج کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

default

2009 ء مبں حیدر آباد میں شدید بارشوں کے بعد متاثرین کو دربائے سندھ کے رستے امداد پہنچائی گئی تھی

ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے یوں تو چاروں صوبے متاثر ہوئے مگر خیبر پختونخوا پنجاب میں تباہی کے بعد سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہو کر تباہی مچا رہا ہے۔ اس وقت سکھر بیراج کے ساتھ ساتھ سکھر شہربھی خطرے کی لپیٹ میں ہے دادو، کندھ کوٹ اور کشمور کے بے شمار دیہات اور کچے کے علاقے بحیرہ عرب کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔
سکھر اور کوٹری بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔سیلابی ریلے کی وجہ سے سکھر اور اس کے گردونواح کی آبادیوں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

Pakistan Indus

دریائے سندھ کا ساحلی علاقہ کبھی عوام کی تفریح گاہ ہوا کرتا تھا، آج اس کی موجوں سے لوگ خوفزدہ ہیں

جامشورو کی حدود میں شہر کو بچانے کےلیے دریائے سندھ کے بعض بندوں میں شگاف ڈالنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ادھر کوٹری بیراج پر بھی پانی کی سطح میں اضافہ تشویش ناک صورت اختیار کر گیا ہے ۔

جس کی وجہ سے لاڑکانہ، دادو، جام شورو، بے نظیر آباد، مٹیاری، حیدرآباد اور ٹھٹھہ کے علاقوں میں سیلابی پانی کے داخل ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔سیلاب زدہ علاقوں میں خوارک کے ساتھہ ساتھہ پینے کے صاف پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ امداد کا میڈیا کے ذریعے چرچا کیا جا رہا ہے۔ بیشتر لوگوں نے شکایت کی ہے کہ صرف سیاسی اثر و رسوخ کو مد نظر رکھ کر امداد کی جا رہی ہے۔حقیقی ضرورت مند اب بھی امداد سے محروم ہیں۔

ادھر دریائے سندھ کا سیلابی ریلا دادو کے گاؤں خاکی تک پہنچ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے خیر پور کے گوٹھہ رزی ڈیرہ کے تین دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے تین بچوں میں سے ایک کی لاش نکالی جا چکی ہے۔ محکمہ آب پاشی سندھ کا کہنا ہے کہ گڈو کے مقام پر دس لاکھ ستاسی ہزار جبکہ سکھر سے گیارہ لاکھہ تیس ہزار پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔

Pakistan Flut Katastrophe 2010 Flash-Galerie

کیا امدادی کارروائیاں کافی ہیں؟

کچھہ مقامات پر پانی کی سطح حفاظتی بند سے تجاوز کر گئی جس کے باعث سیلابی پانی گھوٹکی، پنو عاقل روہڑی، سکھر اور علی واہن میں داخل ہورہا ہے۔ پاک فوج کےجوان، سکھر اور علی واہن کے مقامات پر پانی کے رساؤ روکنے کے لیے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ روہڑی کی حفاظتی دیوار سے پانی کا اخراج جاری ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں سیلابی صورت حال کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

سندھ میں سکھر کے مقام پر علی واھن بند متنازعہ بن گیا ہے۔ سکھر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کو بچانے کے لئے فوری طور پر علی واہن بند میں شگاف ڈالا جائے اس ضمن میں شہریوں نے سید خورشید شاہ کو مورد الزام ٹہرایا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بند توڑے جانے کی صورت میں پنو عاقل چھاؤنی بھی سیلاب کی زد میں آسکتی ہے ۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس