1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں کو درپیش ماحولیاتی خطرات

بدھ کو شائع ہونے والے ایک عالمی سروے میں انتباہ کیا گیا ہے کہ ایشیا اور افریقہ کے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں کو سطح سمندر میں اضافے، سیلابوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے دیگر اثرات کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

default

سرمایہ کاروں اور شہروں کی منصوبہ بندی کرنے والے ماہرین کی رہنمائی کرنے والے ادارے میپل کروفٹ کی جانب سے یہ سروے ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے آئندہ ہفتے دنیا کی آبادی سات ارب افراد تک پہنچ جانے کی پیش گوئی کی ہے۔ ادھر تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سمیت مختلف شہروں میں بہت بڑے پیمانے پر سیلاب سے تباہ کاریاں بھی ہوئی ہیں۔

اس سروے میں دنیا کے 200 کے قریب ملکوں کی درمیانی مدت میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرے سے دوچار ہونے کے حوالے سے درجہ بندی کی گئی ہے۔ سروے میں خطرات کے لحاظ سے دنیا کے 20 سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والے ملکوں کی بھی درجہ بندی کی گئی ہے۔ سروے میں 25 مربع کلومیٹر کے حصوں کے لحاظ سے دنیا کے نقشے تیار کیے گئے ہیں جن سے مختلف علاقوں کا جائزہ لینے کا کام آسان ہو جاتا ہے۔

Future Now Projekt Megacities Bild 10 Manila

فلپائن کا تجارتی مرکز منیلا اپنی انتہائی زیادہ آبادی اور تیز نمو کے باعث انتہائی حساس علاقہ ہے

اس کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ خطرہ ہیٹی کو ہے جبکہ آئس لینڈ ان سے سب سے کم متاثر ہو گا۔ تھائی لینڈ 37 ویں نمبر پر ہے۔

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکہ انتہائی شدید خطرے سے دوچار ہے۔ خطرات کے شکار دیگر بڑے شہروں میں منیلا، کولکتہ، جکارتہ، کنشاسا، لاگوس، نئی دہلی اور گوانگ زو شامل ہیں۔

میپل کروفٹ کے مطابق، ’’ان شہروں میں آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت کے کمزور نظم و نسق، بدعنوانی، غربت اور دیگر سماجی و اقتصادی مسائل بھی موجود ہیں جن سے مقامی باشندوں اور کاروبار کو خطرات درپیش ہیں۔‘‘

میپل کروفٹ کے ماحولیاتی تجزیہ کار چارلی بیلڈون نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں جن سے نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہو گی بلکہ کاروبار، قومی معیشتوں اور سرمایہ کاروں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

Vulkan Katla in Island

آئس لینڈ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے کم متاثر ہونے کا خدشہ ہے

ادارے کے تیار کردہ نقشوں میں ملکوں کے ان علاقوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو زیادہ حساس ہو سکتے ہیں، جن کے باعث دیگر قصبوں، شہروں، اقتصادی خطوں اور انفرادی کمپنیوں کے اثاثوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مثال کے طور پر فلپائن کا تجارتی مرکز منیلا اپنی انتہائی زیادہ آبادی اور تیز نمو کے باعث انتہائی حساس علاقہ ہے اور وہاں سیلاب، طوفانوں اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ ہے۔ موسم پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ استوائی ایشیا میں بارشوں کی شدت میں اضافے کی توقع ہے۔

ادارے کے مطابق دنیا میں کئی دیگر شہروں کے بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے مگر وہ بہتر نظم و نسق، زیادہ دولت اور بہتر پالیسیوں کی وجہ سے ان سے نمٹ سکتے ہیں۔

امریکی شہر میامی سنگاپور کی طرح بلند خطرے سے دوچار ہے جبکہ نیویارک اور سڈنی درمیانے خطرے اور لندن کم خطرے سے دوچار ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM