1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تیزی سے پگھلتے ہوئے برفانی تودے سطح سمندر میں غیر معمولی اضافے کا خطرہ

امریکی جیو فیزیکل یونین (AGU) کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے مختلف کوہستانی گلیشیرز اور قطبین پر جمی برف غیر معمولی تیزی سے پگھل رہی ہے۔

default

اس کے سبب دنیا بھر کے سمندروں کے پانی کی سطح اس وقت جتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے قبل کبھی نہیں بڑھی۔ اس سلسلے میں ایک رپورٹ حال ہی میں سامنے آئی ہے جسے AGU اپنے اس ماہ کے جرنل میں شائع کرے گی۔

اس رپورٹ کے مصنف Eric Rignot کا تعلق NASA کی جیٹ لیبارٹری سے ہے جو کیلیفورنیا میں قائم ہے۔ ماہرین کے مطابق قطبین کی برفیلی چوٹیوں میں رونما ہونے والی اس نوعیت کی تبدیلی کے بارے میں شائع ہونے والی یہ تازہ ترین رپورٹ اس بارے میں منظر عام پر آنے والی اب تک کی رپورٹوں میں سے طویل ترین رپورٹ ہے۔ یہ مطالعاتی رپورٹ 20 سالوں کی ریسرچ پر محیط ہے۔

Flash-Galerie Peter 1 bei der Nordpolumrundung

قطبین پر جمی برف بھی تیزی سے پگھل رہی ہے

رپورٹ سے ثابت ہوا ہے کہ گرین لینڈ اور قطب جنوبی یا انٹارکٹکا پر جمی برف کے اوسط حجم میں گزشتہ 20 برسوں کے دوران سالانہ بنیادوں پر 475 گیگا ٹن کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں 2006 میں شائع ہونے والی ایسی ہی ایک رپورٹ سے پتہ چلا تھا کہ کوہستانی گلیشیرز اور قطبین پر جمی برف کے پگھلنے سے کُل 402 گیگا ٹن برف کی کمی واقع ہوئی تھی۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ جس رفتار سے اس وقت گلیشیرز اور قطبین پر جمی برف پگھل رہی ہے، اس کے باعث ہر سال سمندوں کی سطح میں اوسطاً 1.3 ملی میٹر کا اضافہ ہوگا۔ یعنی 2050ء تک سمندروں کی سطح 15 سینٹی میٹر تک بڑھ جائے گی۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس