1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تیران اور صنافیر جزائر سعودی عرب کو دیے جائیں، مصری عدالت

ایک مصری عدالت نے بحیرہٴ احمر کے دو اسٹریٹیجک جزائر تیران اور صنافیر سعودی عرب کو دینے کے ایک متنازعہ سمجھوتے کو عملی شکل دینے کی منظوری دے دی ہے۔

Jordanien Treffen König Salman Abdel al-Sisi (picture-alliance/Zuma/Egyptian President Office)

مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان اُردن میں عرب لیگ کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر آپس میں ملاقات کر رہے ہیں

مصر کے سرکاری ٹیلی وژن نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ کی فوری امور کی ایک عدالت نے اتوار دو اپریل کو اپنے فیصلے کے ذریعے جنوری میں سامنے آنے والے اُس عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس میں ان دونوں جزائر کو سعودی عرب کے حوالے کیے جانے کی مخالفت کی گئی تھی۔

یہ عدالتی فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب قاہرہ اور ریاض حکومتیں کئی مہینوں کے سرد مہری سے عبارت تعلقات کے بعد ایک بار پھر مصالحت کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ ابھی گزشتہ بدھ کو ہی مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اُردن میں منعقد ہونے والی عرب لیگ کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر آپس میں ملاقات کی تھی۔

مصر نے اپریل 2016ء میں سعودی عرب کے ساتھ ایک سرحدی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت خلیج عقبہ کے آغاز پر واقع یہ دونوں غیر آباد جزائر ریاض حکومت کے کنٹرول میں دیے جانا تھے۔

قاہرہ حکومت نے کہا تھا کہ یہ سمجھوتہ ان دونوں عرب ملکوں کے درمیان سمندری حدود کا تعین کرتا ہے اور اس امر اصرار کرتا ہے کہ دراصل یہ جزائر سعودی عرب ہی کی ملکیت تھے اور محض بیس ویں صدی کے پانچویں عشرے میں مصر کے کنٹرول میں آ گئے تھے۔

مصر میں اس ڈیل کے ناقدین نے صدر السیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ گزشتہ سال اس سمجھوتے کی خبریں منظرِ عام پر آتے ہی مصر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور اس کو قانونی طور پر بھی چیلنج کیا جانے لگا تھا۔

2013ء میں جب السیسی نے، جو تب ابھی آرمی چیف تھے، ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد اسلام پسند صدر محمد مرسی کو معزول کر دیا تھا تو سعودی عرب نے مصر کو کافی زیادہ مالی امداد فراہم کی تھی۔ گزشتہ برس البتہ یہ مالی امداد کم ہو گئی، جس کی وجہ شام اور یمن کے تناز عات کے حوالے سے ان دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات تھے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات ابھی گزشتہ مہینے پھر سے معمول پر آتے دکھائی دیے، جب سعودی عرب کی سرکاری کمپنی آرامکو نے چھ ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر بحری جہازوں کے ذریعے مصر کو معدنی تیل بھیجنے کا آغاز کیا۔

مصری حکومت نے تیران اور صنافیر جزائر پر ہونے والی ڈیل کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کر رکھا ہے تاہم اس پر ایوانِ نمائندگان میں بحث ہونا ابھی باقی ہے۔