1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تہران میں توڑ پھوڑ کے دوران سات افراد ہلاک ہوئے، سرکاری ریڈیو

ایرانی ریڈیو پیام کے مطابق حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کرنے والے صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کے حامیوں کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں پیر کے روز کل سات افراد ہلاک ہوئے۔

default

تہران میں پیر کے روز مظاہروں کے دوران آتشزنی کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے

جمعہ کے روز ہونے والے ایرانی صدارتی انتخابات میں سرکاری نتائج کے مطابق تقریبا دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیابی پہلے ہی سے صدر کے عہدے پر فائز چلے آرہے قدامت پسند صدارتی امیدوار محمود احمدی نژاد کو ملی تھی جبکہ اپوزیشن کے امیدوار اور سابق وزیر اعظم میر حسین موسوی کےحامیوں کا الزام ہے کہ اصل فاتح اصلاحات پسند سیاستدان موسوی ہیں جنہیں ریاستی ڈھانچے کی طرف سے مبینہ دھاندلیوں کے نتیجے میں دانستہ منصوبہ بندی کے ذریعے ناکامی سے دوچار کیا گیا۔

انتخابی نتائج کے خلاف موسوی کے حامیوں کی طرف سے ایران میں احتجاجی مظاہرے ویک اینڈ پر ہی شروع ہو گئے تھے مگر پیر کے روز یہ احتجاج اس وقت خونریز شکل اختیار کرگیا جب ایران کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنائی کی وفادار سمجھی جانے والی اور نیم فوجی دستوں کی سی حیثیت والی ایک مسلح ملیشیا کے ارکان نے تہران شہر کے ایک حصے میں ہزار ہا مظاہرین کے ایک بے قابو ہوجانے والے حصے پر گولی چلا دی تھی۔

Demonstration in Tehran am 15.06.2009

ایرانی دارالحکومت میں میر حسین موسوی کے ہزار ہا حامیوں کی احتجاجی ریلی کا ایک منظر

اس بارے میں ایران کے زیادہ تر میوزک پروگرام نشر کرنے والے اور ٹریفک سے متعلق معلومات کی ترسیل کا کام کرنے والے ریاستی ریڈیو پیام نے آج منگل کی صبح اپنی نشریات میں بتایا کہ پیر کے روز میر حسین موسوی کے حامی ہزاروں مظاہرین نے اپنے احتجاج کے دوران ایرانی دارالحکومت میں ایک فوجی چوکی پر حملہ کرنے کے علاوہ شہر میں آزادی چوک کے نواح میں عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

ریڈیو پیام نے اپنی نشریات میں ناکام صدارتی امیدوار موسوی کے حامی مشتعل سیاسی کارکنوں کے لئے "ٹھگوں" کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بدامنی کے اس ماحول میں مزید عوامی املاک کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اس سرکاری ریڈیو نے نیم فوجی دستوں کی طرف سے فائرنگ کا کوئی ذکر کئے بغیر بتایا کہ بدامنی کے ان واقعات میں "سات افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔"

تہران میں مقامی ذرائع نے خبر ایجنسی AFP کوبتایا کہ شہر میں ایمرجنسی سروسز کے شعبے نے تصدیق کی ہے کہ پیر کے روز خونریز ثابت ہونے والے ہنگاموں میں کل آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم اس فرانسیسی خبر رساں ادارے کی طرف سے شہر میں طبی شعبے کی اعلیٰ انتظامی شخصیات کے ساتھ رابطے پرAFP کو بتایا گیا کہ پیر کے روز اپوزیشن کارکنوں کی احتجاجی ریلی کے دوران کوئی ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا۔

رپورٹ: خبررساں ادارے، ادارت: مقبول ملک

DW.COM