1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تہران حملوں کے بعد ٹرمپ کی چبھتی ہوئی تنبیہ ’سخت ناپسندیدہ‘

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں داعش کے خونریز حملوں میں تیرہ افراد کی ہلاکت کے بعد کہا ہے کہ دہشت گردی کی حامی ریاستوں کے خود دہشت گردی کا شکار ہو جانے کا خطرہ ہے۔ ایران نے ٹرمپ کے اس ردعمل کو ’سخت ناپسندیدہ‘ قرار دیا ہے۔

Iran Chomeini Mausoleum in Teheran (Reuters/TIMA)

تہران میں آیت اللہ خمینی کا مقبرہ

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جمعرات آٹھ جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق کل بدھ سات جون کو تہران میں ملکی پارلیمان اور ایران کے اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر کیے گئے شدت پسند تنظیم داعش کے خود کش بم حملوں میں تیرہ افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے لیے ہمدردی کا اظہار تو کیا لیکن ساتھ ہی ایک ایسی متنازعہ بات بھی کہہ دی، جس پر تہران حکومت کی طرف سے بہت سخت ردعمل ظاہر کیا گیا۔

USA Trump zum Pariser Klimaabkommen (Reuters/K. Lamarque)

ٹرمپ نے اپنی تنبیہ میں یہ اشارہ دیا تھا کہ ایران وہی کاٹ رہا ہے جو اس نے بیجا تھا

ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’جو ریاستیں دہشت گردی کی حمایت کرتی ہیں، انہیں یہ خطرہ بھی ہے کہ وہ خود بھی دہشت گردی کا شکار ہو سکتی ہیں۔‘‘ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان کی طرف سے ایران کے لیے ایک ایسی چبھنے والی تنبیہ تھی، جس میں تقریباﹰ یہ کہنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ایران وہی کاٹ رہا ہے، جو اس نے بیجا تھا۔

تہران حملوں میں 12 ہلاکتیں، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

ایرانی پارلیمان اور خمینی کے مقبرے میں فائرنگ، دو ہلاک

ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ’’ہماری رائے میں جو ریاستیں دہشت گردی کی سرپرستی کرتی ہیں، انہیں یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اسی برائی کا شکار ہو جائیں، جس کی وہ ترویج کرتی ہیں۔‘‘

امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر ایرانی حکومت کی طرف سے وزیر خارجہ جواد ظریف نے فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ردعمل کو ’سخت ناپسندیدہ‘ قرار دیا۔ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا، ’’وائٹ ہاؤس کی طرف سے بیزار کن بیان اور امریکی سینیٹ کی طرف سے پابندیاں، اس وقت جب ایران امریکا کی حمایت یافتہ دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔‘‘

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کی طرف سے تہران میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بظاہر ہمدردی اور افسوس کے اظہار کے جواب میں یہ بھی کہا، ’’ایرانی عوام امریکا کی طرف سے دوستی کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘

داعش کے تمام حملہ آور ایرانی ہی تھے

تہران میں ملکی پارلیمان اور آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر حملہ ایسی پہلی خونریز دہشت گردانہ کارروائی ہے، جس کی ذمے داری شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے قبول کی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان حملہ آوروں کی کل تعداد چھ تھی، وہ سب کے سب خود بھی ایرانی شہری تھے اور انہوں نے ملک کے مختلف حصوں سے داعش کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ایران کی 90 فیصد تک آبادی شیعہ مسلم ہے جہاں سنی مسلم اقلیت زیادہ تر پاکستان اور عراق کے ساتھ سرحدی علاقوں میں رہتی ہے۔ ایران داعش اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف عراق اور شام میں لڑنے والا ایک اہم ملک بھی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات