1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تہران اور مغرب کے مابین اختلافات پھر واضح

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ رویے سے کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا جبکہ تہران حکومت کا الزام ہے کہ ان پر حکم چلائے جارہے ہیں۔

default

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس

امریکہ نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر تہران حکام کے رویے کو صرف بیان بازی کی حد تک محدود قرار دیا ہے۔ انقرہ میں ترک حکام سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ تہران حکومت نے عملاً ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے ٫این، پی، ٹی٫ کے مطابق جوہری ہتھیار کے حصول کا عزم نہیں رکھتا۔

رابرٹ گیٹس نے، ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ فیول ڈیل جلد طے پا جائے گی۔ امریکی وزیر نے کہا، ’’ایران اگر سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کی تجویز مان لے، جو اسے مان لینی چاہیے تو اسے آئی اے ای اے کو باضابطہ طور پر مطلع کرنا چاہیے۔‘‘

Flash-Galerie Sicherheitskonferenz in München

ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے میونخ سلامتی کانفرنس میں عندیہ دیا تھا کہ جوہری تنازعے سے متعلق جلد معاہدہ ہونے کے امکانات ہیں

ایرانی صدر احمدی نژاد نے گزشتہ دنوں یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے متعلق رضامندی ظاہر کرکے تنازعے کے حل کی امیدیں پیدا کردی تھیں۔ احمدی نژاد نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اسے معمولی بات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خواہ مخواہ معاملے کو طول دیا جارہا ہے، وہ تیار ہیں کہ ساڑھے تین فیصد افزودہ یورینیم مغربی طاقتوں کے حوالے کردیں گے اور چار یا پانچ ماہ بعد ان سے بیس فیصد افزودہ ایندھن حاصل کریں گے۔

میونخ کانفرنس میں، تہران حکومت کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے اس مؤقف کی وضاحت یوں بیان کی: ’’ ہماری سرگرمیاں اب بھی آئی اے ای اے کی جانچ تلے ہیں، وہ یورینیم کی افزودگی روکنے کی بات کرتے ہیں، ہم نے دو سال تک اس پر عمل کیا، اور نتیجہ کیا نکلا ، ہم سے کہا گیا کہ افزودگی مکمل طور پر بند کردی جائے‘‘۔

ایرانی اعلیٰ حکام مغربی ممالک پر شاکی ہیں، پارلیمان کے اسپیکرعلی لاریجانی نے ایک بیان میں کہا کہ تہران پر بیرونی ممالک اپنی مرضی تھونپنا چاہتے ہیں کہ کس طریقے سے جوہری بجلی گھر کے لئے ایندھن حاصل کیا جائے۔ لاریجانی اور دیگر بااثر ایرانی شخصیات جوہری توانائی کے عالمی ادارے کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر میں پیش کی گئی تجویز کی شروع سے سخت مخالفت کررہے ہیں۔

UN-Sicherheitsrat, Nordkoreas Atomtests

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نے ایران کو نئی پابندیوں سے خبردار کیا ہے

دریں اثنا سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک مسلسل ایران کو ممکنہ پابندیوں سے خبردار کررہے ہیں۔ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک جرمنی کے وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بھی ایران پر زور دیا کہ جوہری پروگرام سے متعلق پر امن عزائم عالمی برادری کے سامنے ثابت کرے۔میونخ میں سلامتی سے متعلق کانفرنس میں ویس‍ٹر ویلے نے کہا کہ دنیا جوہری ہتھیار سے مسلح ایران کو تسلیم نہیں کرسکتی۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM